خطبات محمود (جلد 22) — Page 431
* 1941 431 خطبات محمود ضرور مجھ سے ہنسی کی ہو گی۔چنانچہ مجھ پر جنون سا طاری ہو گیا اور یہ خیال کر کے کہ نامعلوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے بھی ہیں یا نہیں۔میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے بے تحاشہ برا بھلا کہنا شروع کر دیا کہ تُو بڑا خبیث اور بدمعاش ہے تو کبھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا اور ہمیشہ ہنسی کرتا رہتا ہے بھلا ہماری قسمت کہاں کہ حضرت صاحب کپور تھلہ تشریف لائیں۔وہ کہنے لگا کہ آپ ناراض نہ ہوں اور جاکر دیکھ لیں مرزا صاحب واقع میں آئے ہوئے ہیں۔اس نے یہ کہا تو میں پھر دوڑ پڑا مگر پھر خیال آیا کہ اس نے ضرور مجھ سے دھوکا کیا ہے چنانچہ پھر میں اسے کوسنے لگا کہ تو بڑا جھوٹا ہے ہمیشہ مجھ سے مذاق کرتا رہتا ہے ہماری ایسی قسمت کہاں کہ حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام ہمارے ہاں تشریف لائیں۔مگر اس نے پھر کہا منشی صاحب وقت ضائع نہ کریں مرزا صاحب واقع میں آئے ہوئے ہیں۔چنانچہ پھر اس خیال سے کہ شاید آہی گئے ہوں میں دوڑ پڑا مگر پھر یہ خیال آجاتا کہ کہیں اس نے دھوکا ہی نہ دیا ہو۔چنانچہ پھر اسے ڈانٹا۔آخر وہ کہنے لگا۔مجھے برا بھلا نہ کہو اور جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو واقع میں مرزا صاحب آئے ہوئے ہیں۔غرض میں کبھی دوڑتا اور کبھی یہ خیال کرکے کہ مجھ سے مذاق ہی نہ کیا گیا ہو ٹھہر جاتا۔میری یہی حالت تھی کہ میں نے سامنے کی طرف جو دیکھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لارہے تھے۔اب یہ والہانہ محبت اور عشق کا رنگ کتنے لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔یقیناً بہت ہی کم لوگوں کے دلوں میں۔میاں عبداللہ صاحب سنوری بھی اپنے اندر ایسا ہی عشق رکھتے تھے۔ایک دفعہ وہ قادیان میں آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ان سے کوئی کام لے رہے تھے اس لئے جب میاں عبداللہ صاحب سنوری کی چھٹی ختم ہو گئی اور انہوں نے حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام سے جانے کے لئے اجازت طلب گی تو حضور نے فرمایا۔ابھی ٹھہر جاؤ۔چنانچہ انہوں نے مزید رخصت کے لئے درخواست بھجوا دی مگر محکمہ کی طرف سے جواب آیا کہ اور چھٹی نہیں مل سکتی تو