خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 400

* 1941 400 خطبات محمود ان کی اولاد بھی پیدا ہوئی مگر مجھے ہمیشہ یہ دیکھ کر گزشتہ تمام نظارہ یاد آ جاتا ہے کہ باپ اب اپنی اولاد کی شکل تک دیکھنے کا روادار نہیں۔ان کا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ اچھا نیک اور مخلص احمدی ہے۔ایک دفعہ یہاں آیا اور اس نے مجھے لکھا کہ میں بیمار ہوں اور مسلول ہوں۔اس بیماری اور مسلول ہونے کی حالت میں مجھے خیال آیا۔قادیان کی زیارت کر آؤں۔معلوم نہیں کتنی زندگی باقی ہے۔وہ اپنے باپ کے ر گیا تو باپ نے اسے گھر میں ٹھہرنے نہ دیا۔پھر وہ مہمان خانہ میں گیا تو اس کے باپ نے مہمان خانہ والوں کو لکھا کہ میرے اس لڑکے کو فوراً مہمان خانہ سے نکال جائے۔یہ نہیں کہ اس لڑکے میں کوئی عیب پایا جاتا تھا جس کی وجہ سے اس نے ایسا سلوک کیا۔وہ لڑکا نہایت اچھا اور نیک ہے مگر اس کے باپ کے دماغ کی کوئی کل ایسی بگڑی ہے کہ وہ اسے اپنے ہاں نہیں ٹھہرا سکتے حالانکہ ہمیں معلوم ہے یا تو پاگل حالت میں قادیان میں ہجرت کر کے آئے تھے اور ہجرت بھی انہوں نے ایک عورت کی خاطر کی تھی۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے مَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ - 1 کہ جو دنیا کی خاطر یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لئے ہجرت کرے اس کی ہجرت خدا اور رسول کے لئے نہیں بلکہ دنیا اور عورت کے لئے سمجھی جائے گی۔انہوں نے بھی اس لئے ہجرت کی کہ کسی طرح اس عورت سے شادی ہو جائے۔پھر حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ و السلام سے دعائیں کرائیں اور بار بار لکھا کہ حضور دعا کریں میری پیدا فلاں جگہ شادی ہو جائے۔پھر شادی ہو گئی اور اس شادی کے نتیجہ میں اولاد بھی ہوئی مگر اسی محبوبہ کی اولاد سے پھر ان کی اتنی دشمنی ہوئی کہ وہ اس کا سامنے آنا تک پسند نہیں کرتے۔اب یہ وہی مرض ہے جو بچپن مرض ہے جو بچپن کی حالت میں انسان کے اندر پہلے بچہ شور مچاتا ہے کہ میں نے کھلونا لینا ہے اور جس طرح بھی ہو اُسے حاصل کرنا ہے پھر جب وہ کھلونا اسے مل جاتا ہے تو نہایت بے پروائی کے ساتھ اسے توڑ پھوڑ ڈالتا ہے۔اسی قسم کی اور ہزاروں ہزار مثالیں دنیا میں ملتی ہیں اور ایسے