خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 379

* 1941 380 خطبات محمود مگر اس کے یہ معنی نہ تھے کہ آئندہ بھی ایسا فیصلہ تسلیم کیا جایا کرے۔بہر حال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان کی بات کی اتنی قیمت قرار دے دی جس کی مثال نہیں مل سکتی۔کجا تو وہ زمانہ تھا اور کجا آج یہ زمانہ ہے کہ مسلمان کی بات ماننے کو کوئی تیار نہیں ہوتا۔مسلمان کوئی بات کہے تو لوگ کہتے ہیں یہ مسلمان نے کہی ہے معلوم نہیں پوری ہو یا نہ ہو۔میں ایک دفعہ کشمیر گیا۔حضرت خلیفہ اول کا زمانہ تھا۔کشمیر میں لوئیوں کے ٹکڑے رنگ رنگ کر فرش پر بچھانے کے لئے ایک کپڑا بناتے ہیں۔جسے گتا کہتے ہیں۔اسلام آباد میں ایک مشہور گتا ساز تھا۔ہم نے بھی ، ایک گتا بنانے کا آرڈر دیا اور سائز وغیرہ اچھی طرح بتا دیا۔جب ہم سیر کرتے کراتے واپس اس شہر میں آئے تو پتہ کیا کہ گتا تیار ہوا ہے یا نہیں۔اس نے کہا تیار ہے مگر جب اسے دیکھا تو سائز میں 25 فیصدی کا فرق تھا۔مگر وہ کہے کہ سائز وہی ہے جو آپ نے بتایا تھا۔غالباً اس کے ساتھ تحریر بھی ہو چکی تھی جس میں سائز درج تھا مگر وہ پھر بھی یہی کہتا جاتا تھا کہ یہ آپ کے بتائے ہوئے سائز کے مطابق تیار ہوا ہے۔محلہ کے لوگ بھی وہاں جمع ہو گئے اور سب نے کہا کہ سائز وہ نہیں جو انہوں نے بتایا تھا۔مگر ان سب باتوں کے جواب میں اس کا ایک ہی جواب تھا کہ میں مسلمان ہندی۔کشمیری مرد کو مونث کے طور پر بولتے ہیں۔وہ مذکر کو مؤنث اور مؤنث کو مذکر بولتے ہیں۔مثلاً کہیں گے چور آئی۔میں آئی، میری بیوی آیا۔تو وہ صرف یہی جواب دیتا تھا کہ میں مسلمان ہندی یعنی میں مسلمان ہوں مجھے اس کی یہ بات سن کر بہت غصہ آیا اور میں نے کہا کہ تم یہ کیوں کہتے ہو میں مسلمان ہوں اس لئے یہ بد دیانتی میرے لئے جائز ہے۔تم صاف کہو مجھ سے غلطی ہوئی ہے یا میں نے دھوکا کیا ہے۔تم اپنے فعل کو مسلمان ہونے کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو۔تو آج یہ حالت ہے کہ نہ مسلمانوں کے کسی معاہدہ کا اعتبار ہے اور نہ ان کے کسی معاملہ کا لین دین ان کا خراب ہو چکا ہے۔کسی سے قرض لیں گے تو واپس نہ کریں گے، مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ ان کا سلوک ہمدردانہ نہیں، ہمسائیوں سے