خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 327

* 1941 328 خطبات محمود جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں صرف ظاہری مسلمان قرار دیا ہے۔پھر یہ نہیں فرمایا کہ ان تمام ظاہری مسلمانوں نے آپ کے دعویٰ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا بلکہ فرماتے ہیں “ وہ جو صرف ظاہری مسلمان تھے۔وہ حقیقی مسلمان بننے لگے جیسا کہ اب تک چار لاکھ کے قریب بن چکے ہیں۔" اسی طرح فرماتے ہیں : “ میرے لئے یہ شکر کی جگہ ہے کہ میرے ہاتھ پر چار لاکھ کے قریب لوگوں نے اپنے معاصی اور گناہوں اور شرک سے توبہ کی۔” 7 گویا چار لاکھ حقیقی مسلمان صرف وہ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو قبول کیا۔کتنی واضح بات ہے جو اس حوالہ میں بیان کی گئی ہے اور کس طرح دو گروہوں کا مقابلہ کیا گیا ہے۔ایک کو صرف ظاہری مسلمان قرار دیا گیا ہے اور دوسرے گروہ حقیقی مسلمان قرار دیا گیا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے تعداد بھی بتا دی ہے کہ یہ حقیقی مسلمان صرف چار لاکھ کے قریب ہیں۔اب غیر مبائعین جن کے متعلق کہتے ہیں کہ انہیں کافر کہنا جائز نہیں اور وہ حقیقی معنوں میں مسلمان ہیں وہ چار لاکھ ہیں یا چار کروڑ یا چالیس کروڑ ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ روئے زمین کے تمام مسلمانوں کو حقیقی مسلمان قرار دیتے ہیں۔اس صورت میں انہیں یا تو یہ ثابت کرنا چاہئے کہ چار لاکھ کے الفاظ غلط لکھے گئے ہیں۔اصل الفاظ چار کروڑ یا چالیس کروڑ کے تھے یا پھر انہیں ماننا چاہئے کہ ظاہری مسلمان کو کروڑوں ہوں مگر حقیقی مسلمان چند لاکھ ہی ہیں اور وہ بھی وہی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لائے۔پھر اس سے بھی بڑھ کر لطیفہ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آجکل پیغامیوں کا سارا زور اس بات پر صرف ہو رہا ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر خود کافر بن چکی ہے گویا وہ چار لاکھ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ہاتھ پر حقیقی مسلمان بنے تھے وہ تو اس طرح کافر بن چکے ہیں اور جو باقی مسلمان ہیں