خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 314

* 1941 315 خطبات محمود جگہ ہونے کی وجہ سے سانپ بچھو وغیرہ کا خطرہ ہو سکتا ہے اس کی سیڑھیاں نصف تک بند کر ادی تھیں اور باقی جگہ میں گھر کی رڈی اشیاء عام طور پر رکھی جاتی تھیں۔میں نے خواب میں دیکھا کہ اس جگہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کھڑا کیا ہوا ہے اور آپ کے سامنے سپاہی اُپلے رکھ رہے ہیں اور وہاں اُپلوں کا ڈھیر لگا دیا ہے۔پھر دیا سلائی سے آگ لگاتے ہیں یہ نظارہ دیکھ کر میں خواب کی حالت میں ہی گھبراتا ہوں اور اس سپاہی کو وہاں سے ہٹانا چاہتا ہوں مگر دوسرے سپاہی مجھے روکتے ہیں۔اتنے میں میری نظر اوپر اٹھی تو ایک عبارت موٹے حرفوں سے لکھی ہوئی نظر آئی جو یہ تھی “خدا کے بندوں کو کون جلا سکتا ہے؟” پھر کیا دیکھتا ہوں کہ یا تو اس سپاہی نے خود ہی اپہلے ہٹا دئے یا وہ خود بخود ہٹ گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر تشریف لے آئے۔پس خدا تعالیٰ پر کسی تکلیف کا آنا تو در کنار وہ تو اپنے بندوں پر بھی ایسے مصائب نہیں آنے دیتا۔لیکن جو لوگ جھوٹے دعوے کرتے ہیں ان کے ساتھ ضرور ایسے سامان لگے ہوتے ہیں کہ جو اُن کی خدائی کے کو باطل کر دیں۔آگے فرمایا يَبْسُطُ الرِّزْقَ میرا خدا تو دنیا کو رزق دیتا ہے مگر یہ مدعیان تو خود محتاج ہیں۔روٹی کی ضرورت ہے، پانی کی احتیاج ہے۔پھر روٹی کھاتے ہیں تو کہتے ہیں نمک زیادہ کیوں ہو گیا یا پھیکا کیوں ہے، روٹی کیوں جل گئی، سالن کو داغ کیوں لگ گیا پھر ان کو پیاس بھی لگتی ہے۔گویا وہ خود ہر وقت محتاج ہیں دوسروں کو رزق کہاں سے دیں گے اور اس لئے خدا کیونکر ہو سکتے ہیں؟ پھر فرمایا۔إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ۔وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور اسے سب کا علم ہے۔وہ خوب جانتا ہے کہ رزق کہاں ہے۔مگر انسان کو کیا علم لاکھوں کروڑوں پونڈ کا سرمایہ پاس دبا ہوا ہو، زیور، نقدی مدفون ہو مگر اسے کیا علم ہے۔زمین کے نیچے کا نیں پوشیدہ ہیں مگر انسان کو کیا علم۔مگر خدا کو سب کچھ نظر آتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اگر فلاں جگہ کو پچاس ہم ساٹھ گز گہرا کھودا جائے تو نیچے سے اشرفیوں کے بھرے ہوئے مٹکے نکلیں گے۔مگر روز اس جگہ پر سے گزر جاتے ہیں مگر کچھ علم نہیں ہوتا۔اور یہ سب باتیں ثبوت