خطبات محمود (جلد 22) — Page 286
* 1941 287 خطبات محمود دونوں مارے گئے تھے۔کفار بھی اسی لڑائی میں ہلاک ہوئے اور صحابہ بھی اسی لڑائی میں شہید ہوئے۔مگر ایک کے متعلق تو ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان پر بڑا فضل انعامات سے نوازا اور دوسروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ان پر کیا اور انہیں اپنے انعامات تعلق ہے غضب نازل ہوا۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک گروہ تو خدا تعالیٰ کے فضلوں کے مرا اور دوسرا گروہ اس کی لعنتوں کے نیچے مرا۔تو اللہ تعالیٰ کا انسان کے ہاتھ ہو جانا یا پاؤں بن جانا یہ معنے نہیں رکھتا کہ ایسے انسان تکلیفوں سے بچ جاتے ہیں بلکہ یہ معنے ہوتے ہیں کہ ایسے انسان اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نیچے آجاتے ہیں اور ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا اتصال ہو جاتا ہے کہ ان کی خواہشات خدا کی خواہشات بن جاتی ہیں اور ان کی آرزوئیں خدا کی آرزوئیں بن جاتی ہیں۔اس لئے وہ کبھی کوئی ایسی خواہش نہیں کر سکتے جس نے رد ہو جانا ہو۔مگر اس کے یہ معنے بھی نہیں کہ گھروں میں روز مرہ پیش آنے والے امور کے متعلق بھی ان کی ہر خواہش پوری ہو جاتی بلکہ اس سے مراد صرف وہ خواہشات ہیں جو انسانی زندگی کے مقاصد کے ساتھ رکھتی ہیں۔مثلاً یہ تو ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ایک مقرب انسان کو پیچش کی شکایت ہو اور اس کی طبیعت خشکے 3 کو چاہے تو وہ گھر میں تیار نہ ہو مگر ہو مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی وہ خواہشات پوری نہ ہوں جو اس کی زندگی کے مقاصد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ورنہ بشریت کے ماتحت تو ایسا ہوتا ہی رہتا ہے کہ ایک انسان بعض دفعہ ایک چیز کی خواہش کرتا ہے اور وہ گھر میں موجود نہیں ہوتی۔یا چاہتا ہے کہ فلاں کام ہو جائے مگر وہ حسب منشاء نہیں ہوتا لیکن ایسی خواہشات اپنے اندر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتیں۔اور بعض دفعہ تو ایک گھنٹہ گزرنے کے بعد انسان کو یاد بھی نہیں رہتا کہ اس کے دل میں کیا خواہش پیدا ہوئی تھی۔پس جو خواہشات ایسے انسان کی لازماً پوری ہوتی ہیں وہ وہی ہوتی ہیں جو اس کی زندگی کے مقاصد کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور جن کے پورا نہ ہونے سے اس کا آرام دکھ سے بدل جاتا ہے۔عام خواہشات اس میں شامل نہیں اور نہ ہی وہ اتنی اہم ہوتی ہیں بلکہ بعض دفعہ تو