خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 285

* 1941 286 خطبات محمود اور کوئی نبی اور ولی ایسا نہیں گزرا جن پر مصیبتیں نہ آئی ہوں۔مگر جو چیز ان پر نہیں آتی اور جس میں انبیاء دوسروں سے مستثنیٰ ہوتے ہیں وہ یہ ہے کہ ان پر کوئی ایسی تکلیف نہیں آتی جو انہیں مایوس کر دے یا خدا تعالیٰ کی رحمت سے انہیں محروم کر دے۔ورنہ تکالیف ان پر بھی آتی ہیں اور بعض دفعہ تو بڑی بڑی تکلیفیں آتی ہیں۔چنانچہ دیکھ لو ابو جہل بے شک مر گیا اور خدا نے اسے دنیا و آخرت میں ذلیل دیا لیکن جسمانی زندگی اور دنیا کے آرام کو اگر دیکھا جائے تو ابو جہل کی زندگی رسول کریم صلی ال نیلم کی زندگی سے زیادہ آرام میں گزری ہے۔بے شک اس کی زندگی کے آخری لمحات میں خدا تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا کہ اس کی آرام کی زندگی خدا تعالیٰ کے کسی فضل کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ وہ ایسی ہی تھی جیسے شیطان کو ڈھیل دی گئی ہے۔م الله سة لیکن اس سے پہلے لوگ یہی سمجھتے تھے کہ ابو جہل آرام میں ہے اور رسول کریم صلی علی یم تکلیف میں ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کا انسان کے ہاتھ بن جانا یا پاؤں بن جانا یا زبان بن جانا معنے نہیں رکھتا کہ ایسا انسان مصیبتوں سے حفوظ ہو جاتا ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان ان مصائب سے محفوظ ہو جاتا ہے جو تباہ کرنے والی ہوتی ہیں۔ورنہ ظاہری تکالیف انبیاء کو بھی پہنچتی ہیں ، صدیقوں کو بھی پہنچتی ہیں، شہیدوں کو بھی پہنچتی ہیں اور صالحین کو بھی پہنچتی ہیں بلکہ شہید تو کہتے ہی اسے ہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں مارا جائے۔پھر ہم شہید کو شہید کیوں کہتے ہیں؟ اور ان دشمنوں کے متعلق جو لڑائی میں مارے جاتے ہیں یہ کیوں کہتے ہیں کہ وہ خد اتعالیٰ کے سے مارے گئے ہیں؟ اسی لئے کہ شہید کی شہادت خدا تعالیٰ کے فضلوں کے نیچے ہوتی ہے اور اس کے دشمنوں کی موت خدا تعالیٰ کی لعنت کے نیچے ہوتی ہے۔دشمن کی موت کو تو ہم عذاب قرار دیتے ہیں مگر شہید کی موت کو انعام سمجھتے ہیں۔چنانچہ بدر میں مارے جانے والے صحابہ کی ہم کتنی عزت کرتے ہیں لیکن بدر میں مارے جانے والے کفار کے متعلق کہتے ہیں کہ خدا نے محمد صلی ایم کی مخالفت کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کیا۔حالانکہ ایک ہی جگہ اور ایک ہی لڑائی میں الله