خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 268

* 1941 269 خطبات محمود ان کے نفسوں کی خواہشات تھیں۔کوئی نہ کوئی نفسانی غرض، کوئی پوشیدہ مقصد اور یا پھر کوئی دماغی کمزوری اس کا سبب ہوتا ہے۔قربانی کرنے یا دوسروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت اور ہمت ان میں نہیں ہوتی اور اس لئے صداقت پر اعتراض کرتے جاتے ہیں۔خواہ وہ سورج کی طرح عیاں کیوں نہ ہو چکی ہو اور یہ ان کی عادت ہو جاتی ہے۔یہی حال ہمارے پیغامی دوستوں کا ہے۔بار یک دلائل کو جانے دو میں ایک موٹی بات پیش کرتا ہوں اسے ہی لے لو۔رسول کریم صلی ال کلیم نے جہاں بہت سے آنے والے وجودوں کی خبر دی ہے وہاں ایک خاص وجود کی بھی خبر دی ہے اور نبی اللہ 1 فرمایا ہے۔آپ نے فرمایا کہ میری اُمت میں مجد دین آئیں گے2۔بھی فرمایا ہے کہ میری امت میں منافق بھی ہوں گے مگر کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ ہمارے سامنے جو شخص بھی آئے ہم اسے منافق قرار دے دیں۔اس وجہ سے کہ آپ نے فرمایا ہے میری امت میں منافق بھی ہوں گے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ کریم نے فرمایا کہ قیامت کے روز میں حوض کوثر پر کھڑا ہوں گا کہ فرشتے میرے بعض صحابہ کو لے کر دوزخ کی طرف جائیں گے تو میں پکاروں گا۔أَصَيْحَابِي أَصَيْحَابی 3 کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں۔اس پر فرشتے جواب دیں گے کہ آپ کو معلوم نہیں آپ کے بعد ان اصحاب نے کیا کیا کام کئے مگر اس کے معنی نہیں کہ ہر صحابی کو منافق کہہ دیا جائے۔دراصل ان لوگوں کو جو آپ نے سة اپنے اصحاب بیان فرمایا تو یہ محض ان کی ظاہری حالت پر قیاس کر کے۔صحابہ نہ تھے مگر کیا آپ کے اس ارشاد کی وجہ سے ہم حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ بزرگوں کو بھی منافق کہہ سکتے ہیں؟ اسی طرح بے شک آپ نے فرمایا ہے کہ میری امت میں مجددین آئیں گے مگر یہ بھی تو فرمایا کہ نبی بھی ہو گا۔اس حدیث کو بعض لوگ ضعیف قرار دے دیتے ہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے استعمال کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سے کم اس کا یہ حصہ ضعیف نہیں۔اور وجوہ سے اس کے دوسرے حصے ضعیف ہوں