خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 267

* 1941 268 خطبات محمود اصل مطلب اس کا صرف یہ ہوتا ہے کہ کونین کون کھائے ٹائیفائڈ کے ٹیکے نکل آئے ہیں۔لیکن ایسے آدمی سے اگر کہا جائے کہ ٹیکہ کرا لو تو کہہ دے گا کہ بہ سب باتیں ہیں جو ڈاکٹروں نے اپنی دوائیاں بیچنے کے لئے مشہور کر رکھی ہیں۔مگر جب ٹائیفائڈ آن پکڑتا ہے تو پھر علاج کے لئے ڈاکٹروں کے پیچھے پھرتے ہیں۔ہیضہ پھیلتا ہے ان سے کہا جائے کہ حفظ ما تقدم کے طور پر علاج کراؤ تو کہیں گے کہ کیا ہیضہ سب کو ہوتا ہے مگر جب ان پر حملہ ہوتا ہے تو پھر گھبراتے ہیں۔تو اس قسم کے خیالات دراصل نفس کی بیماری سے پیدا ہوتے ہیں۔کام کرنے کو دل نہیں چاہتا اور قوتِ فیصلہ ہوتی نہیں اس لئے ایسا انسان اپنے آپ کو طفل تسلی دے لیتا ایسے لوگ دنیا میں ہمیشہ ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔میر امطلب یہ ہے کہ اگر انسان کسی مسئلہ پر خواہ مخواہ بحث جاری رکھنا چاہے اور کوئی بڑی سے بڑی دلیل بھی پیش کی جائے تو وہ اس پر کوئی نہ کوئی اعتراض کر دے گا اور وہ اعتراض خواہ کتنا نامعقول کیوں نہ ہو اسے پیش کر کے سمجھ لے گا کہ میں نے اس دلیل کو رد کر دیا۔دنیا میں کہا جاتا ہے کہ آفتاب آمد دلیل آفتاب مگر جس کا یہ عقیدہ ہو کہ دنیا میں سب کچھ وہم ہے۔نور بھی وہم اور اندھیرا بھی وہم ہے وہ اس دلیل کو بھی رد کر دیتا ہے۔وہ سمجھتا ہے نہ کوئی سورج تھا، نہ روشنی، نہ چاند، نہ ستارے۔تو اس قسم کی بحثیں کبھی بھی ختم ہونے میں نہیں آتیں۔سلسلہ چلتا جاتا ہے ایک بات چھوڑی دوسری پکڑی۔آگے وہ چھوڑی تو کوئی اور لے لی۔اور ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جنہوں نے جھگڑوں کو دنیا میں جاری رکھا ہوا ہے۔بھلا وہ کونسی چیز تھی جس نے حضرت نوح علیہ السلام کے مخالفوں کو ضد پر قائم رکھا تھا؟ اور وہ کونسی بات تھی جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مخالفوں کو ان کے مقابل پر کھڑا کر رکھا تھا؟ پھر وہ کونسی دلیل تھی جس سے حضرت داؤد اور سلیمان علیہما السلام کا مقابلہ ان کے مخالفوں نے کیا؟ حضرت عیسی علیہ السلام اور پھر آنحضرت صلی علیم کا مقابلہ کرایا؟ ان کے پاس کوئی دلیل نہ تھی کوئی ثبوت نہ تھا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ