خطبات محمود (جلد 22) — Page 262
1941 263 خطبات محمود جا گرا اس میں میری کوئی غلطی نہیں۔میں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے چنانچہ میاں بشیر احمد صاحب چلے گئے۔اس وقت مسجد میں بہت بڑا ہجوم معلوم ہوتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جلسے کے دن ہوتے ہیں۔نماز کا وقت ہے۔میں یہ بات کہہ کر مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے چلا جاتا ہوں۔تھوڑی دیر کے بعد میاں بشیر احمد صاحب پھر واپس آئے اور میں نے ان سے کہا کہ کیا ہوا؟ وہ کہنے لگے کہ کچھ بھی نہیں ہوا وہ تو یونہی فریب تھا۔میں نے جاتے ہی ان سے کہہ دیا تھا کہ وہ کہتے ہیں میں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔میں معذرت کرنے کے لئے تیار نہیں اس پر وہ کہنے لگے اچھا جب ان کی مرضی نہیں تو نہ سہی اور یہ کہہ کر چلے گئے۔یہ رؤیا نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو سنا دیا تھا اسی طرح بعض اور دوستوں کو بھی سنایا اور غالباً شوری کی ایک تقریر میں بھی اس کا ذکر کیا تھا اور کہا تھا کہ معلوم ہوتا ہے غیر مبائعین اس قسم کی کوئی تجویز کرنا چاہتے ہیں کہ قادیان میں اپنا کوئی مبلغ بھیجیں۔ایک موقع پر جب میں یہ رویا سنا رہا تھا تو ایک دوست جو پاس ہی بیٹھے تھے کہنے لگے کہ بات تو ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ مجھے غیر مبائعین کی ایسی ہی تجویز کا علم ہے اور جس شخص کو آپ نے خواب میں دیکھا ہے اسی کے متعلق تجویز ہو رہی ہے کہ اسے قادیان بھیجا جائے۔میں تو سمجھا تھا کہ اس سے مراد کوئی پیغامی مبلغ ہے۔یہ ضروری نہیں کہ وہی شخص مراد ہو جسے میں نے خواب میں دیکھا تھا مگر عجیب بات یہ ہے کہ جس شخص کو میں نے خواب میں دیکھا اسی کے متعلق یہ تجویز بھی سننے میں آگئی کہ ان کا ارادہ اسے قادیان میں بطور مبلغ بھیجنے کا ہے۔اس کے بعد ان کا ایجنڈا بھی میرے پاس پہنچ گیا اور اس طرح یہ بات اور بھی پختہ ہو گئی۔غرض ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بتا رکھا ہے کہ وہ ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر اللہ تعالیٰ انہیں ناکام کرے گا۔اسی طرح مجھے متواتر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مولوی محمد علی صاحب قادیان میں آئے ہیں اور انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا ہے اور بڑے ادب سے میرے سامنے بیٹھے ہیں۔پس میں تو ئے