خطبات محمود (جلد 22) — Page 248
1941 249 خطبات محمود ہمارے تعلقات اس زمانہ سے بہت اچھے ہیں۔اس میں ایک اور قابل غور بات ہے جسے ہمارے اخباروں نے بھی پیش نہیں کیا کہ اگر کوئی ایسا سرکلر بھیجا جاتا تو وہ ناظر امور عامہ کی طرف سے ہونا چاہئے تھا۔نہ کہ ناظر اعلیٰ کی طرف سے۔ہمارے نظام کے لحاظ سے اس کا تعلق ناظر امور عامہ سے ہے ناظر اعلیٰ سے نہیں۔یہ امر بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسا کوئی سرکلر ہے ہی نہیں۔ناظر اعلیٰ تو آئینی لحاظ سے ایسا سرکلر بھیجنے کا مجاز ہی نہیں۔ناظر اعلیٰ کی طرف سے ایسے سرکلر کا بھیجا جانا تو ہمارے کانسٹی ٹیوشن کے ہی خلاف ہے۔اگر ایسا سرکلر بھیجا جاتا تو ناظر امور عامہ کی طرف سے بھیجا جاتا۔پس یہ بات سرے سے بناوٹی ہے۔حقیقت صرف اتنی ہے کہ جس زمانہ میں سکھوں نے ہمارا مذبح گرایا تو مختلف اشخاص نے ایسی تجاویز لکھیں کہ ایسے واقعات کے انسداد کے لئے کیا کرنا چاہئے اور ایک افسر نے اپنی ذاتی حیثیت میں وہ تجاویز نوٹ کیں جو اخبار میں شائع کی گئی ہیں لیکن نہ وہ کبھی انجمن میں پیش ہوئیں اور نہ اس نے انہیں منظور کیا۔یہ ایک فرد کے خیالات تھے اور ایک فرد کے خیالات کی ذمہ داری ساری قوم پر کس طرح عائد ہو سکتی ہے؟ کیا سکھ اس اصول کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں کہ اگر کوئی سکھ کوئی بات کہے یا کسی کو دھمکی دے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ دھمکی ساری قوم کی طرف سے ہے۔یہ بھی ایک شخص کے خیالات ہیں جنہیں قوم نے کبھی منظور نہیں کیا۔قوم کی ذمہ داری اس صورت میں ہو سکتی تھی کہ انجمن ان باتوں کو منظور کرتی یا خلیفہ وقت منظور کرتا۔پس ایسے وقت میں جبکہ ملک کو اس بات کی ضرورت ہے کہ سب قومیں مل کر حفاظت کی تدابیر اختیار کریں۔ایسی بے بنیاد باتوں کی بناء پر شور مچانا اور فتنہ پیدا کرنا عقلمندی نہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ سکھ تو ایک دفعہ بیان کر کے چپ ہو گئے ہیں مگر بعض مسلمان اخبار برابر شور مچاتے جا رہے ہیں اور ان کی مثال ویسی ہی ہو رہی ہے کہ “ ماں سے زیادہ چاہے کٹنی کہلائے ” وہ سکھوں۔بھی زیادہ ان کے ہمدرد بنے ہوئے ہیں۔مصری کو مرتد ہوئے بھی چار سال ہو چکے ہیں www۔