خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 244

1941 245 خطبات محمود بڑی عزت کرتے ہیں۔یہودی کفار کو مسلمانوں پر ترجیح دیتے تھے حالانکہ مسلمان حضرت موسیٰ کو، حضرت داؤد کو سچا نبی مانتے ہیں اور بھی یہود کے بیسیوں نبیوں کو پر مانتے ہیں اور ان کا ادب و احترام کرتے ہیں ان کی کتابوں کو سچا مانتے ہیں۔مذہبی احکام کی تفاصیل میں بھی بہت حد تک دونوں میں اتفاق ہے مگر پھر بھی یہود مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ سے مل جاتے تھے۔یہی حال آج اکثر مسلمانوں کا ہے۔اول تو ہم دوسری قوموں کے ساتھ جھگڑے سے بچتے ہیں۔لیکن اگر ہندؤوں، سکھوں یا عیسائیوں وغیرہ سے کہیں کوئی جھگڑا ہو جائے تو مسلمان ہمارے خلاف فوراً ان سے مل جاتے ہیں۔ایک پادری نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نالش کی کہ آپ نے مجھے قتل کرانے کی سازش کی ہے۔یہ دراصل اسلام اور عیسائیت کا جھگڑا تھا کوئی جائداد کا جھگڑا نہ تھا، کوئی تجارتی جھگڑا حضرت مسیح موعود عليه الصلوة و السلام و السلام اور پادریوں میں نہ تھا۔پادری صرف اس وجہ سے آپ کے مخالف تھے کہ آپ عیسائیت کی مخالفت اور اسلام کی تائید کرتے ہیں مگر مسلمان آپ کے خلاف اس پادری کے ساتھ ہو گئے حتی کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تو آپ کے خلاف یہ گواہی دینے کے لئے آئے کہ یہ شخص ایسا ہی ہے اس نے ضرور ایسی بات کی ہو گی۔حالانکہ چاہئے تھا کہ مسلمانوں کے دل میں غیرت ہوتی۔اس کے بالمقابل ایک مخلص مسلمان کا واقعہ ہے جب آتھم کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ کے کے مطابق ٹل گئی تو مخالف ہنسی ٹھٹھا کرتے تھے۔ایک دن نواب صاحب وعده بہاول پور کے دربار میں جو موجودہ نواب صاحب کے دادا تھے یہی تذکرہ ہونے لگا اور امراء و درباریوں نے تمسخر و استہزاء شروع کیا۔اس وقت پیر غلام فرید صاحب چاچڑاں والے بھی جو بڑے بزرگ اور نیک انسان تھے موجود تھے۔ان پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صداقت کھول دی تھی اور وہ آر ایمان لے آئے تھے، لوگ بیٹھے ہنسی مذاق کرتے رہے اور پیر صاحب چپ چاپ بیٹھے ان کی باتیں سن رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد نواب صاحب نے بھی اس استہزاء میں