خطبات محمود (جلد 22) — Page 230
1941 خطبات محمود 231 اتباع کرے گا؟ انہوں نے یہ بالکل سچ لکھا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کا خلیفہ، گاندھی جی کی کبھی اتباع نہیں کر سکتا بلکہ دنیا نے اگر کبھی اتباع کی تو جماعت ریہ کے کسی خلیفہ کی اتباع کرے گی۔پس ان کی یہ بات بالکل صحیح ہے گاندھی جی کی اتباع جماعت احمدیہ کا خلیفہ ہر گز نہیں کر سکتا اور اگر کبھی اتباع کریں گے تو دوسرے لوگ ہماری جماعت کے خلیفہ کی کریں گے خلیفہ ان کی اتباع نہیں کرے بعض کے گا۔لیکن یہ تو سوال ہی پیش نہیں کہ خیال کیا جا سکے کہ اب جماعت احمدیہ خلیفہ کو گاندھی جی کی اطاعت کرنی پڑے گی۔ہماری جماعت کے سامنے ہرگز یہ سوال نہیں کہ وہ مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَةِ کانگرس میں شامل ہو یا مسلم لیگ میں۔اس بارہ میں انہیں غلط فہمی ہوئی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ ہماری جماعت کے دوست بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں حالانکہ ہمارے سامنے ہرگز یہ سوال نہیں کہ ہم کانگرس میں مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَةِ شامل ہوں یا ہم مسلم لیگ میں من حَيْثُ الْجَمَاعَةِ شامل ہوں۔ہم ایک مذہبی جماعت ہیں اور سیاسی نقطہ نگاہ سے ہماری کسی خاص جماعت سے وابستگی نہیں ہو سکتی سوائے اس کے کہ کوئی جماعت ایسی ہو کہ جس کے مفاد اور جس کے اغراض اور مقاصد ہماری جماعت کے اغراض اور مقاصد کے خلاف نہ ہوں۔ایسی حالت میں ہم بے شک کلی طور پر ایسی جماعت سے وابستہ ہو سکتے ہیں مگر پھر بھی مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَةِ نہیں بلکہ ہم اپنی جماعت کے بعض افراد کو یہ اجازت دے سکتے ہیں کہ وہ اگر چاہتے ہیں تو فلاں سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں۔ورنہ ہماری جماعت ایک مذہبی جماعت ہے اور طور پر ناممکن ہے کہ بحیثیت جماعت ہم کانگرس یا مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں۔یہ سوال تو چند سالوں سے ہمارے سامنے ہے اس پر غور کرنے کی ہمیں اس لئے ضرورت پیش آئی کہ جماعت کے بعض نوجوانوں میں جو سیاست سے دلچسپی رکھتے ہیں یہ خیال پیدا ہوا کہ انہیں کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے کاموں میں حصہ لینا چاہئے۔بعض نے اپنے طور پر غور کر کے یہ نتیجہ نکالا کہ مسلم لیگ کی پالیسی اچھی ہے قطعی