خطبات محمود (جلد 22) — Page 195
1941 196 خطبات محمود سة سمجھا نہیں۔قادیان میں آٹھ ہزار احمدی آبادی ہے۔بے شک ان میں نابالغ بھی ہیں، معذور بھی ہیں، بیمار بھی ہیں، بوڑھے بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں اور پھر کچھ لوگ سفر پر گئے ہوئے ہوں گے مگر پھر بھی پانچ سو بہت تھوڑی تعداد ہے۔میرے پاس جو رپورٹ پہنچی تھی وہ تو چار سو لوگوں کے متعلق تھی مگر چونکہ بعض رپورٹوں میں عورتوں کو گنتی میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور بعضوں کی رپورٹ میرے پاس بعد میں بھی آتی رہی ہیں اس لئے میں نے اپنے ذہن میں یہ اندازہ لگایا ہے کہ قادیان میں قریباً 500 لوگوں نے روزہ رکھا ہے۔مگر میرے نزدیک یہ تعداد اس بات کو ظاہر نہیں کرتی کہ لوگوں نے میری ہدایت پر پوری طرح عمل کیا ہے۔شاید اس کی وجہ ہو کہ اخبار والوں نے لوگوں کو بار بار جگایا اور ہوشیار نہیں کیا۔مگر میں سمجھتا ہوں مومن کو بار بار جگانے اور ہوشیار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی آخر رسول کریم صلی الل نظم کے زمانہ میں کون سے اخبار ہوا کرتے تھے مگر لوگ پھر بھی شوق سے عمل کرتے تھے بلکہ اخباروں نے تو موجودہ زمانہ میں میرے نزدیک لوگوں کو سست کر دیا ہے۔بہر حال قادیان میں سے قریباً پانچ سو آدمیوں نے روزہ رکھا اور گو یہ تعداد قادیان کی آبادی کے لحاظ سے کم ہو مگر دنیا میں شاید ہی کسی اور جگہ بیک وقت اتنے آدمیوں نے حکومتِ برطانیہ کی کامیابی کے لئے کبھی روزہ رکھا ہو۔میں تو خیال کرتا ہوں کہ شاید لنڈن میں بھی ایک دن میں پانچ سو آدمیوں نے اس غرض کے لئے روزہ نہیں رکھا ہو گا اور اگر ساری جماعت کے روزے شمار کئے جائیں تو ہزاروں تک تعداد پہنچ گئی ہو گی۔پس ہماری یہ قربانی معمولی قربانی نہیں بلکہ دنیا کی تمام قوموں یہاں تک کہ انگریزوں کی قربانی سے بھی بڑھی ہوئی ہے۔جیسا کہ اعلان کیا جا چکا ہے آج جمعہ کی نماز کی آخری رکعت میں رکوع کے بعد کے قیام میں میں دعا کروں گا کہ اللہ تعالیٰ موجودہ جنگ کے شدید نتائج سے دنیا کو محفوظ رکھے اور ایسے نتائج پیدا فرمائے جو اسلام اور احمدیت کے لئے مفید ہوں۔نیز ہماری جماعت کو ان ابتلاؤں سے بچائے جو ہماری حد برداشت سے باہر ہوں اور ایسی سہولتیں پیدا فرمائے کہ ہم ان کاموں کے