خطبات محمود (جلد 22) — Page 19
$1941 19 خطبات محمود فتوحات نے پیدا نہ کیا۔اس کے بعد جب اسلامی حکومت سپین تک وسیع ہو گئی تو سپین فتح کرنے والوں کا کام بھی کتنا عظیم الشان تھا۔سپین کو جانے والا افریقی راستہ ایسا ہے کہ اس میں دو دو، تین تین سو میل تک کہیں پانی میسر نہیں آتا۔پھر سپین میں خود ایک زبر دست حکومت تھی مگر چند ہزار مسلمان سپاہی جن کی تعداد میں ہزار سے کم تھی انہوں نے مصر سے اپنے گھوڑوں کی باگیں اٹھائیں اور سپین میں فرانس کے ساحل پر آکر دم لیا۔راستہ میں انہوں نے کسی جگہ دولاکھ کے لشکر سے مقابلہ کیا اور کسی جگہ تین لاکھ کے لشکر سے۔مگر ان کی فتح نے بھی وہ ایمان پیدا نہ کیا جو مکہ کی فتح نے پیدا کیا تھا۔کیونکہ ان کے اندر وہ باتیں پیدا ہو چکی تھیں جو فاتح قوم کا جزو ہوتی ہیں۔اور دنیا اس بات کو سمجھتی ہے کہ فاتح قوم کے دل بالکل اور قسم کے ہوتے ہیں۔مگر محمد صلی ال نیلم کے ساتھ مکہ میں داخل ہونے والے ایک مغلوب قوم کا جزو تھے اور وہ ایسے تھے جن کو کفار نے اپنے گھروں سے نکال دیا تھا۔طارق 1 کے ساتھ جانے والے لشکر کا ہر شخص کہتا تھا کہ ہم باقی ساری دنیا فتح کر چکے ہیں حصہ وہ اب اسی علاقہ کو فتح کرنارہ گیا ہے مگر مکہ کی طرف بڑھنے والے لشکر کا بیشتر تھا جن کے سامنے یہ واقعات تھے کہ وہ کبھی رات کو پوشیدہ طور پر مکہ سے بھاگ نکلتے تھے اور کبھی دن کو کفار کی نظر بچا کر ہجرت کے لئے چل پڑتے۔انہیں اپنی آنکھوں کے سامنے وہ گلیاں نظر آ رہی تھیں جن میں انہیں پیٹا جاتا، انہیں پتھروں پر گھسیٹا جاتا اور انہیں عبادت کرنے سے روکا جاتا۔پس جس شہر کو وہ فتح کرنا چاہتے تھے اس میں رعب کے سارے سامان ان کے خلاف تھے۔لیکن طارق کی فوج رعب کے سارے سامان اپنے ساتھ رکھتی تھی اس لئے طارق کی فتح جو مکہ کی فتح سے ہزاروں گنے بڑھ کر ہے وہ نتیجہ پیدا نہ کر سکی جو مکہ کی فتح نے پیدا کیا۔کیونکہ دونوں کے حالات مختلف تھے۔پس ہماری جماعت کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس کی فتوحات اور کامیابیوں میں بھی وہی فتوحات اور کامیابیاں بابرکت ہیں جو بغیر ظاہری سامانوں کے ہوں۔