خطبات محمود (جلد 22) — Page 18
$1941 18 خطبات محمود بے سامان ہوتے ہوئے مکہ فتح کیا۔جب تک مسلمانوں میں یہ ایمان موجود رہا انہیں دنیا کی کوئی طاقت اپنی جگہ سے ہلا نہ سکی مگر شام کی فتح کے وقت چونکہ کچھ نہ کچھ ظاہری سامان پیدا ہو چکے تھے اس لئے شام کی فتح وہ ایمان پیدا نہ کر سکی جو مکہ کی فتح نے پیدا کیا۔اسی طرح عراق کی فتح مسلمانوں میں وہ ایمان پیدا نہ کر سکی جو مکہ فتح نے پیدا کیا تھا۔حالانکہ عراق کسری کے ماتحت تھا اور کسریٰ کی حکومت اتنی سیع تھی کہ چین اس کے ماتحت تھا، سائبیریا اس کے ماتحت تھا، عراق اس کے ماتحت تھا، افغانستان اس کے ماتحت تھا، ہندوستان کے کچھ حصے بھی اس کے ماتحت تھے، بلوچستان اس کے ماتحت تھا، یمن وغیرہ بھی اس کے قبضہ میں تھا۔غرض اپنی وسعت کے لحاظ سے انگریزی حکومت بھی اتنی بڑی نہیں جتنی کسری کی حکومت تھی۔اس حکومت سے مسلمانوں نے عراق فتح کیا لیکن اتنی عظیم الشان فتح کے باوجود عراق کی فتح نے وہ ایمان پیدا نہیں کیا جو مکہ کی فتح نے پیدا کیا اس لئے کہ اب لوگ فتح کے عادی ہو چکے تھے وہ عراق کی فتح کو شام کی فتح کا اور شام کی فتح کو مکہ کی فتح کا نتیجہ سمجھتے تھے۔مگر مکہ کی فتح کو مکہ سے سے رسول کریم صل الم کے نکالے ނ جانے کا نتیجہ سمجھتے تھے۔اسی لئے عراق کی فتح باوجود اس کے کہ مکہ کی فتح سینکڑوں نہیں ہزاروں گنے بڑھ کر تھی اس کا فاتح دنیا میں وہ تغیر پیدا نہ کر سکا جو مکہ فتح کرنے والے نے دنیا میں تغیر پیدا کیا۔اسی طرح شام اور مصر کے فتح کرنے والے دنیا میں وہ تغیر پیدا نہ کر سکے جو مکہ کو فتح کرنے والے نے دنیا میں تغیر پیدا دیا۔اس لئے کہ مکہ کی فتح ایک بے سامان فوج کے نتیجہ میں ہوئی اور بعد کی فتوحات اُس وقت ہوئیں جب سامان کسی قدر پیدا ہو چکے تھے۔مسلمانوں کے پاس خزانہ تھا، ان کے پاس غلہ تھا، ان کے پاس سواریاں تھیں، ان کے پاس روپیہ تھا، ان کے پاس ہتھیار تھے۔غرض دنیا کو انسان کا ہاتھ کام کرتا نظر آتا تھا مگر محمد صل اليوم کا مکہ میں داخلہ ایسا تھا کہ اس میں کسی انسان کا ہاتھ کام کرتا نظر نہیں آتا تھا۔پس خدا تعالیٰ کی ذات پر جو ایمان مکہ کی فتح نے پیدا کیا وہ شام اور مصر اور عراق کی