خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 183

1941 184 خطبات محمود لوگوں نے مجھے کئی رنگ میں غصہ دلانا چاہا اور ان کے خلاف انہوں نے یہ بات پیش کی، وہ بات پیش کی مگر میں ان سب باتوں کو رد کرتا چلا گیا۔آخر جب میں نے دیکھا کہ ان کا مذہب ایسا ہے جو اپنے اندر تفصیلی تعلیم رکھتا ہے تو میں نے سمجھا کہ بس یہ ایک بات ایسی ہے جس کی وجہ سے یہودیت کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ اگر ہم کوئی قانون بنائیں اور وہ یہودی قانون سے ٹکرا جائے تو لازماً یہودی اپنی شریعت کے قانون کو مد نظر رکھیں گے اور حکومت کے قانون کو نظر انداز کر دیں گے اور یہ بات ایسی ہے کہ جس مذہب میں بھی پائی جاتی ہو اسے صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔اسی طرح یہ بات بھی اس کی نسبت بیان کی جاتی ہے کہ ایسے مذہب کو بھی کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا جس کا مرکز کسی اور حکومت کے ماتحت ہو۔یہ بات بھی ایسی ہے جس کی اسلام اور مسلمانوں پر زد پڑتی ہے۔کیونکہ اسلام کا مرکز مکہ ہے اور ہم اس بات کو کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے کہ مکہ عیسائیوں کے ماتحت آ جائے یا ہٹلر کے ماتحت آ جائے یا مسولینی کے ماتحت آ جائے۔پس اگر کوئی باغیرت مسلمان مکہ کو آزاد رکھنا چاہے گا تو وہ کسی صورت میں بھی اس ت سے تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں ہو گا جس کا یہ عقیدہ ہو کہ ایسے مذہب کو برداشت نہیں کیا جا سکتا جس کا مرکز کہیں باہر ہو۔حکوم گا اسلام کا مرکز تو بہر حال غیر حکومتوں کے دائرہ اثر سے ہمیشہ باہر رہے جب تک کہ مسلمان بے غیرت اور بے حیا نہیں بن جاتے۔ہاں اگر اسلام اور قرآن کی محبت ان کے دلوں میں نہ رہی، رسول کریم صلی ال نام کے اقوال کی عظمت ان کے دلوں سے اُٹھ گئی اور انہوں نے اپنے مونہوں سے بے شرم اور بے حیا بن کر کہہ دیا کہ ہم ہٹلر کے ماتحت ہی رہنا چاہتے ہیں اور اگر اسے ہمیں اپنے ماتحت رکھنے میں کوئی اعتراض ہے تو بے شک مکہ پر قبضہ کر لے یا ہم مسولینی کے ماتحت ہی رہنا چاہتے ہیں اور اگر اسے ہمیں اپنے ماتحت رکھنے میں کوئی اعتراض ہے تو بے شک