خطبات محمود (جلد 22) — Page 182
1941 183 خطبات محمود تعلق رکھتے ہیں وہ ہٹلر کے نزدیک قابل برداشت نہیں ہیں۔بعض بے وقوف مسلمان بلکہ بعض نادان احمدی تک یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ صرف یہودیوں کا دشمن ہے۔حالانکہ اس کا یہود پر مظالم ڈھانا کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ محض اس وجہ سے ہے کہ ان کی ایک شریعت ہے اور وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ شرعی احکام پر عمل کرنا ضروری ہے۔پس یہ خیال کر لینا کہ وہ یہودیوں پر تو ظلم کرتا ہے لیکن احمدیوں ظلم نہیں کرے گا یا مسلمانوں پر وہ ظلم نہیں کرے گا کمال درجہ کی حماقت ہے۔اگر یہ صحیح ہے جیسا کہ اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کوئی ایسا مذہب جس میں شریعت کی تفصیلات موجود ہوں اور جو حکومت کے قانون کو مجبور کرتا ہو کہ وہ فلاں حد تک رہے اور اس حد سے آگے نہ بڑھے قطعی طور پر قابل برداشت نہیں۔جب تک ہٹلر کا یہ خیال موجود ہے، جب تک جرمنی اس نظریہ پر قائم ہے اس وقت تک احمدیوں یا مسلمانوں کا یہ خیال کر لینا کہ وہ کسی وقت نائسی ازم کے ماتحت امن سے رہ سکتے ہیں یا فاشزم کے ماتحت امن سے رہ سکتے ہیں قطعی طور پر احمقانہ اور جاہلانہ خیال ہے اور ہر شخص جو اس بات کو جانتے ہوئے نازیوں سے ہمدردی رکھتا ہے وہ یا تو منافق ہے یا پرلے درجہ کا جاہل اور احمق ہے۔میں جانتا ہوں کہ قادیان میں بعض ایسے لوگ موجود ہیں جو جرمنی سے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ میں اس امر کے اظہار میں بھی کوئی باک نہیں سمجھتا کہ خود ہمارے خاندان میں بعض ایسے موجود بتائے جاتے ہیں۔(میرا ذاتی علم نہیں) مگر ایسے تمام لوگوں کی نسبت میرا یہ یقین ہے کہ یا تو وہ بے وقوفی سے اس خیال میں مبتلا ہیں اور یا پھر وہ منافق ہیں اور احمدیت کی نسبت انہیں اپنا نفس زیادہ اہم معلوم ہوتا ہے اور اپنے گندے جذبات کو وہ احمدیت پر ترجیح دیتے ہیں۔یہ کوئی چھپی ہوئی بات نہیں۔ایک شخص ایک کتاب لکھتا ہے اور وہ آج تک نازیوں کے مذہب کے طور پر شائع کی جاتی ہے۔مائنے کامف اس کا نام ہے یعنی میری کوشش، میری جد و جہد، میرے مقاصد یا میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔اس کتاب میں وہ صاف طور پر لکھتا ہے کہ یہودیوں کے متعلق لوگ