خطبات محمود (جلد 22) — Page 173
1941 174 خطبات محمود ها الله سزا دے دیتا ہے اور کسی کو معاف کر دیتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ کسی کو سزا نہ دینا رحم کی بات ہے نا انصافی نہیں۔بعض اوقات بعض مصالح یا کسی حکمت کی بناء پر ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے۔رسول کریم صلی نیم کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہا يَا رَسُولَ الله ! آپ نے فلاں شخص کو مال دے دیا اور فلاں کو نہیں دیا حالانکہ وہ بھی مومن ہے۔آپ یہ سن کر خاموش رہے۔اس نے پھر کہا يَا رَسُولَ اللہ ! آپ نے فلاں شخص کو مال دیا اور فلاں کو نہیں دیا حالانکہ وہ اس سے اچھا مومن ہے۔مگر آپ پھر خاموش رہے اور اس نے پھر تیسری بار یہی اعتراض دُہرایا اور کہا کہ فلاں شخص جسے آپ نے مال نہیں دیا فلاں سے جسے دے دیا اچھا مومن ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ ضروری نہیں کہ میں ایمان کی وجہ سے کسی کو مال دوں۔میں بعض اوقات کمزوروں کو مال دے دیتا ہوں تاوہ ڈگمگا نہ جائیں۔3 فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی ال ہم نے جب اموال تقسیم کئے تو بعض مکہ والوں کو بڑے بڑے گلے دے دئے۔کسی کو سو اونٹ، کسی کو پچاس، کسی کو ہیں اور وہ انہیں لے کر خوش ہو کر چلے گئے۔ایک نوجوان آیا اور آپ کی پشت کی طرف تلوار ٹیک کر کھڑا ہو گیا اور کہا کہ خدا کی قسم اس تقسیم میں انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔آپ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ اگر میں انصاف نہیں کرتا تو دنیا میں اور کون انصاف کرے گا اور آپ نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ ے لوگ پیدا ہوں گے کہ وہ منہ سے قرآن کریم پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔وہ نمازیں پڑھیں گے مگر وہ نمازیں ان کے لئے لعنت کا موجب ہوں گی۔ان سے اسلام میں تفرقہ اور بغاوت پیدا ہو گی۔عمر اس وقت شاید پرے بیٹھے تھے یا شاید بعد میں آئے اور یہ بات سنی تو تلوار کھینچ لی کہ میں اس شخص کو قتل کر دوں گا مگر رسول کریم صلی ا ہم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ اسلام میں تفرقہ پیدا کرنے والی جنگ ہو گی اور اس میں یہ شخص پکڑا جائے گا تو اس کے بازو پر گوشت کا لوتھڑا ہو گا جیسے عورت کا پستان ہوتا ہے۔