خطبات محمود (جلد 22) — Page 167
1941 168 خطبات محمود اپنے گھر میں بیٹھا رہے۔ایسی باتوں کو ہتک سمجھنے والا دفتر میں کام کرنے کے اہل ایک اور شکایت یہ کی گئی ہے کہ ایک دفعہ فلاں شخص دفتر میں بیٹھا تھا ناظر وہاں آیا اور اس سے کہا کہ تم کھڑے کیوں نہیں ہوئے جس شخص کے متعلق یہ واقعہ ہے وہ آجکل میرے ہی ماتحت ایک جگہ ملازم ہے میری ہی زمین پر ہے۔اس لئے گویا میرا ہی ملازم ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ اس واقعہ کے وقت وہ دفتر میں ملازم تھا یا نہیں۔اگر وہ ملازم نہ تھا اور ناظر نے یہ بات اسے کہی تو تکبر سے کام لیا۔ناظروں کے لئے میرا یہ حکم ہے کہ اگر کوئی ان سے ملنے آئے تو کھڑے ہوں دوسروں کو نہیں۔اور کسی ناظر کا کسی مہمان سے یہ کہنا کہ تم کھڑے کیوں نہیں ہوئے تکبر اور آداب کے خلاف ہے۔لیکن اگر وہ شخص اس وقت انجمن کے دفتر میں کلرک تھا تو پھر اگر ایسا کہا تو درست کہا۔یا تو ہم جماعتی لحاظ سے یہ فیصلہ کر دیں کہ کسی کا کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا جائز نہیں اور یہ شرک ہے۔ورنہ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ افسر کے آنے پر کھڑا ہونا چاہئے ورنہ نظام قائم نہیں رہ سکتا۔بعض علماء کا خیال ہے کہ کسی کی تعظیم کے لئے کھڑا ہونا جائز نہیں اور ہے۔قاضی امیر حسین صاحب مرحوم بھی اسے شرک سمجھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیه الصلوة و السلام تشریف لاتے تو دوست تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے مگر قاضی صاحب مرحوم اسے شرک کہتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے سامنے تو نہیں مگر بعد میں دوستوں کو الگ الگ اس سے روکتے تھے۔ایک دفعہ آپ نے میری معرفت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو یہ پیغام بھجوایا کہ یہ شرک کی بات ہے آپ اس کو روک دیں۔حضرت مسیح موعود و السلام نے یہ پیغام سن کر فرمایا کہ قاضی صاحب سے کہہ دو کہ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نیت ہو یا نہ ہو وہ شرک ہی رہتے ہیں اور بعض کام نیت کے ساتھ شرک بنتے ہیں اور تعظیماً کھڑا ہونا ان شرکوں میں سے نہیں کہ نیت ہو یا الصلوة