خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 159

1941 160 خطبات محمود اور کیا وجہ ہے کہ عیسائیوں اور ہندوؤں کے تو ان جذبات کا احترام کیا جائے جو اتوار کے ساتھ وابستہ ہیں مگر مسلمانوں کے ان جذبات کا احترام نہ کیا جائے جو جمعہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔پس اس دن بھی بے شک جلسہ کرو مگر ہم الگ بھی دعا کے لئے جمعہ کا کوئی دن مقرر کریں گے جو ہمارے لئے قبولیت دعا کا دن قرار دیا گیا ہے۔رسول کریم صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ ہر جمعہ کی نماز سے لے کر خطبہ کے ختم ہونے تک ایک ایسی گھڑی آتی ہے کہ جس میں بندے کے دل سے جو دعا بھی نکلتی ہے وہ قبول ہو جاتی ہے۔7 پس حکومت کے نظام کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے اتوار کے دن بھی جلسے کئے جائیں مگر کسی جمعہ کو بھی خاص طور پر دعا کی جائے کہ اللہ تعالیٰ فتنہ و فساد کی آگ سے تمام دنیا کو بچائے خصوصاً اسلام اور احمدیت کی حفاظت کرے اور ان خطرات کو مٹا دے جو اسلام اور احمدیت کی ترقی اور آسانی اور سہولت کے ساتھ ترقی میں روک ہوں۔میں آئندہ دعا کے لئے چار اپریل جمعہ کا دن تجویز کرتا ہوں دوستوں کو چاہئے کہ جمعرات کو روزہ رکھیں اور اس دن تہجد میں خاص طور پر الگ الگ یا مل کر دعا کریں اور پھر جمعہ کے دن جمعہ کی نماز میں خصوصیت کے ساتھ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس جنگ کے بد اثرات سے سب دنیا اسلام اور احمدیت کو محفوظ رکھے اور انگریزوں کی مشکلات کو بھی دور فرمائے۔یہ دعا جمعہ کی آخری رکعت میں رکوع سے قیام کے وقت مانگی جائے تاکہ ایک وقت میں سب نمازی اس دعا میں شامل ہوں اور اخلاص کے ساتھ اور دیر تک مانگی جائے۔” الفضل 28 مارچ 1941ء ) الفضل 28 جون 1940ء 2 الفضل 13 جنوری 1938ء رپورٹ مجلس مشاورت 1927ء صفحہ 179 4 رپورٹ مجلس مشاورت 1928ء صفحہ 139 5 النحل: 109 ، محمد : 17