خطبات محمود (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 712

خطبات محمود (جلد 22) — Page 138

1941 139 خطبات محمود دین سے سچا تعلق رکھتا ہے اور ہر حال میں خدا تعالیٰ کا ساتھ دیتا ہے۔یہی لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ بھی ہر وقت ان کا ساتھ دیتا ہے۔اور ایسے ہی بہادر لوگ ہیں جو حال میں قربانیاں کرتے ہیں۔جن کے ناموں کو دنیا ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔مسلمانوں میں گرے ہوئے زمانہ میں بھی ایسے لوگوں کی کافی مثالیں پائی جاتی ہیں۔یہی لوگ حقیقی بہادر ہوتے ہیں۔بہادر وہ نہیں جو صرف تکلیف کے وقت قائم رہتا ہے۔یہ بہادری نہیں تہور کہلا سکتا ہے اور اسی طرح وہ بھی نہیں جو خوشی میں بات مانتا ہے۔اسے ہم صرف نرم اور کمزور دل کہہ سکتے ہیں۔بہادر وہی ہے جو نہ ڈر کے وقت ساتھ چھوڑتا ہے اور نہ خوشی کے وقت۔اسلامی تمدن کے زمانہ میں اس کی بہترین مثال سپین کے ایک سردار کی نظر آتی ہے۔سپین کو پہلی صدی کے آخر میں مسلمانوں نے فتح کر لیا تھا۔چنانچہ جبل الطارق جسے اب جبرالٹر کہا جاتا ہے ایک مسلمان جرنیل طارق بن زیاد کے نام پر ہی ہے۔یہ یورپ اور امریکہ سے بحیرہ روم : میں داخل ہونے کا دروازہ ہے۔بنو امیہ کے زمانہ میں ایک اسلامی لشکر افریقہ سے ہوتا ہوا یہاں پہنچا اور ایسی ہمت کے ساتھ سپین کو فتح کیا کہ حیرت آتی ہے۔اس لشکر کی تعداد صرف ہیں ہزار تھی۔جب یہ فوج کشتیوں سے اتری تو طارق نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ دیکھو ہم بہت تھوڑے ہیں سارا ملک ہمارا دشمن ہے۔لڑائی اگر شدید ہو تو ممکن ہے بعض کے دل میں یہ کمزوری پیدا ہو کہ لوٹ جائیں۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہم ان کشتیوں کو جلا دیں تا واپسی کا خیال ہی نہ رہے۔بعض نے کہا کہ یہ خطرہ کی بات ہے مگر طارق نے کہا کہ اگر ڈرنا تھا تو گھر سے ہی کیوں نکلنا تھا۔آخر کشتیاں جلا دی گئیں سپین پر حملہ کیا اور اس کے اکثر حصہ کو فتح کر لیا گیا اور وہاں ایک زبر دست حکومت قائم کی اور بڑے بڑے فقیہہ اور علماء جن کے مسلمان یہ جانتے بھی نہیں کہ وہ عربی نہیں بلکہ یورپین تھے وہیں پیدا ہوئے ہیں۔متعلق۔محی الدین ابن عربی بڑے بلند پایہ صوفی گزرے ہیں۔فتوحات مکیہ ان کی مشہور کتاب ہے وہ یورپین اور سپین کے رہنے والے تھے۔اسی طرح بہترین تفاسیر