خطبات محمود (جلد 22) — Page 126
$1941 126 خطبات محمود میں ایسے شخص کی عقل پر تعجب ہی کروں گا جسے رسول کریم صلی الم کی بات سنائی جائے اور وہ کہے کہ حضرت مولوی صاحب نے ایسا نہیں کیا۔بعض انسان ایسے ہوتے ہیں کثرت سے کام کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔آپ چونکہ طبیب تھے اس لئے دن کا اکثر حصہ بیماروں کے دیکھنے میں صرف ہو جاتا۔پھر سارا دن وہ قرآن و حدیث پڑھاتے رہتے تھے اور درس بھی دیتے تھے۔اس وجہ سے ان سے بعض دفعہ سستی جاتی تھی۔مگر بہر حال وہ اس قدر محتاط ضرور تھے کہ کپڑوں میں بُو پیدا نہیں ہونے دیتے تھے۔میں تو ان سے پڑھتا رہا ہوں مجھے یاد نہیں کہ کبھی ان کے کپڑوں سے بُو آئی ہو۔بعض دفعہ بُو پیدا ہونے لگتی تو آپ جھٹ نیا کرتہ منگوا کر بدل لیتے۔آپ چونکہ طبیب تھے اور جانتے تھے کہ بدبو کا انسانی صحت پر کیا اثر ہوتا ہے اس لئے اس بات کا خیال رکھتے تھے۔بہر حال رسول کریم صلی یم کا یہ حکم ہے کہ مساجد کو صاف رکھا جائے۔جمعہ کے موقع پر کپڑے بدلے جائیں اور ہو سکے تو خوشبو لگائی جائے تاکہ جن کے جسم میں کوئی بیماری ہو اور ان کے سانس سے دوسروں کے بیمار ہو جانے کا خطرہ ہو ان کے مقابلہ میں لوگوں کے جسموں اور ان کے کپڑوں میں سے خوشبو آتی رہے اور اس طرح بیماری کا ازالہ ہوتا چلا جائے۔زمینداروں کو یہ کہنا کہ وہ عطر لگا کر آیا کریں یہ تو ایک ایسا مطالبہ ہے جسے وہ پورا نہیں کر سکتے۔جنہیں کھانے کے لئے روٹی بھی میسر نہ ہو وہ عطر کس طرح خرید سکتے ہیں۔ان کے لئے صرف اتنا ہی حکم ہے کہ وہ اپنے کپڑوں کو صاف رکھا کریں۔ان میں بعض بے شک اچھی حیثیت رکھنے والے ہوتے ہیں ان کے لئے عطر لگانا ضروری ہے اور پھر عطر کوئی ایسی چیز بھی نہیں جو بہت زیادہ خرچ چاہتی ہو۔پس غرباء کے لئے گو عطر خریدنا مشکل ہو مگر جو آسودہ حال ہیں وہ آسانی سے خرید سکتے ہیں۔اور پھر عطر کا خرچ بھی بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ذرا سا انگلی سے اگر لگا لیا جائے تو اتنی خوشبو آنے لگ جاتی ہے جو جمعہ میں آنے کے لئے کافی ہو سکتی ہے۔لیکن اگر کوئی شخص عطر خرید ہی نہ سکتا ہو تو اس کے لئے اس بات میں تو کوئی بھی مشکل نہیں کہ وہ کپڑے دھو لیا کرے۔