خطبات محمود (جلد 21) — Page 70
1940 70 خطبات محمود یہ غلبہ قیامت تک رہے گا۔چنانچہ اس وقت تک ہم اس الہام کے پورا ہونے کا نظارہ کئی دفعہ دیکھ چکے ہیں۔پیغامی کس زور سے اٹھے، کس شان سے اٹھے، کن زبر دست ارادوں سے اٹھے، کیا کیا تدبیریں تھیں جو انہوں نے ہمیں زیر کرنے کے لئے اختیار نہ کیں اور کیا کیا منصوبے تھے جو انہوں نے ہمیں ذلیل کرنے کے لئے نہ باند ھے۔جو شوکت اور جور تبہ اس وقت ان لوگوں کو جماعت میں حاصل تھا آج جو بعد میں آنے والے ہیں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔وہ شاید یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ہی غالب رہے ہیں اور وہ ہمیشہ ہی مغلوب رہے ہیں۔حالا نکہ ان ایام میں ان کو اتنار تبہ اور زور حاصل تھا کہ بہت سے لوگوں کے دل ڈرتے تھے کہ نہ معلوم کیا ہو جائے گا اور بعض تو یہ خیال کرتے تھے کہ شاید وہ ہمیں قادیان سے ہی نکال دیں گے۔دنیوی سامان جس قدر ہوا کرتے ہیں وہ سب ان کے ساتھ تھے۔صدر انجمن احمد یہ کا نظام ان کے قبضہ میں تھا، خزانہ ان کے قبضہ میں تھا، رسالے اور اخبار ان کے قبضہ میں تھے یعنی وہ جو انجمن کے ماتحت تھے بیرونی دنیا میں انہی کا نام روشن تھا۔جماعت پر ان کو اقتدار حاصل تھا اور بہت سے لوگ اس دیدہ اور شک میں پڑے ہوئے تھے کہ کیا اتنے بڑے لوگ بھی غلطی کر سکتے ہیں ؟ پھر وہ ایک عرصہ سے اپنے متعلق جماعت میں پرو پیگینڈا کر رہے تھے اور “پیغام صلح اسی غرض کے لئے انہوں نے جاری کیا ہوا تھا۔غرض جماعت میں ایک ہیجان پیدا تھا اور وہ خود دنیوی سامانوں کی کثرت کی وجہ سے اس قدر مغرور تھے کہ انہوں نے ایک دفعہ لکھا کہ ابھی تک تو جماعت کے بیسویں حصہ نے بھی بیعت نہیں کی۔گویا خود ان کے اقرار کے مطابق جماعت کے انیس حصے اُن کے ساتھ تھے اور صرف ایک حصہ ہمارے ساتھ تھا لیکن جبکہ جماعت کے انیس حصے ان کے ساتھ تھے اور صرف ایک حصہ ہمارے ساتھ تھا۔لیکن جبکہ جماعت کی تمام اہم چیزیں انہی کے قبضہ میں تھیں جبکہ جماعت کے تمام اہم ادارے انہی کے پاس تھے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور کرم کے ساتھ مجھ پر الہام نازل کیا اور فرمایا کہ ”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے“۔اور میں نے یہ الہام اسی وقت اشتہارات کے ذریعہ شائع کر دیا جو آج تک دوستوں کے پاس موجود