خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 62

خطبات محمود 62 $1940 ہے وہ دراصل فائدہ میں رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جب آتھم کی پیشگوئی پر مخالفوں نے شور مچایا کہ وہ پوری نہیں ہوئی تو ایک دن نواب صاحب بہاولپور کے دربار میں بھی جو اغلباً موجودہ نواب صاحب کے دادا تھے اس موضوع پر باتیں ہونے لگیں اور تمسخر اُڑایا جانے لگا کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔نواب صاحب کے پیر حضرت غلام فرید صاحب چاچڑاں والے بھی تشریف فرما تھا وہ خاموش بیٹھے رہے مگر کچھ عرصہ بعد نواب صاحب بھی اس گفتگو میں دخل دینے لگے تو وہ جوش میں آگئے اور فرمانے لگے کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ ایک عیسائی کی تائید اور مسلمان کے خلاف باتیں کرتے ہو۔تم لوگ کہتے ہو کہ آتھم زندہ ہے یہ بالکل غلط ہے وہ مر چکا ہے اور مجھے تو وہ مردہ ہی نظر آتا ہے۔3 پس جب کوئی شخص سچ کے لئے کھڑا ہو تو ہر شریف انسان اس کی عزت کرے گا۔اگر کمینے اس کی عزت کو نہ پہچانیں تو یہ کوئی حرج کی بات نہیں۔پس کبھی کسی دشمن کے اعتراض سے ڈر کر حق نہ چھپاؤ کیونکہ اگر تم ایسا کرو گے تو تم اپنی عزت قائم کرنا چاہو گے اور خدا تعالیٰ اور رسول کی بے عزتی کرنے والے بنو گے اور اس صورت میں تم ان کی دعاؤں کے مستحق نہیں بنو گے بلکہ ان کی ناراضگی کے مورد ہو گے۔پس سچ کو قائم کرو کیونکہ جس دن تم اسے قائم کر لو گے احمدیت کی شان اور اس کا مر تبہ بہت ہی بلند و بالا ہو جائے گا۔“ (الفضل 23 مارچ 1940ء) صلى الله 1 بخاری کتاب الجہاد والسير باب دعاء النبي عليه الا الله الى الاسلام 2 تفسير القرطبي جلد 12 صفحه 110 زیر آیت فتبارك الله الخالقين تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 340