خطبات محمود (جلد 21) — Page 50
$1940 50 خطبات محمود معزز آدمیوں کو جھوٹا بنا سکا ہے۔مجسٹریٹ بھی آخر انسان ہوتا ہے اور قانون یہ ہے کہ شہادت کے مطابق فیصلہ کرے۔اس لئے بسا اوقات وہ سمجھتا بھی ہے کہ کیس جھوٹا ہے مگر وہ مجبور ہے کہ سچے کے خلاف فیصلہ کرے۔بعض ممالک مثلاً فرانس وغیرہ میں یہ قاعدہ ہے کہ مجسٹریٹ خود بھی تحقیقات کرے۔اسلام کا قانون بھی یہی ہے اور فرانس چونکہ اسلامی حکومت کے قریب تھا اس لئے شاید اس نے وہاں سے یہ طریق لیا ہو لیکن انگریزی قانون یہ ہے کہ شہادت کے مطابق فیصلہ کیا جائے مجسٹریٹ کوئی دخل نہ دے بلکہ اگر وہ دخل دے تو اسے متعصب سمجھا جاتا ہے اور اس وجہ سے بعض اوقات مجسٹریٹ یہ جاننے کے باوجود کہ بات جھوٹ ہے سزا دے دیتا ہے کیونکہ قانون یہی ہے۔میں نے کئی پولیس والوں سے سنا ہے کہ ہم نے کبھی جھوٹا مقدمہ نہیں بنایا۔پہلے اطمینان کر لیتے ہیں کہ مقدمہ سچا ہے اور پھر اس کی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے جھوٹے گواہ بناتے ہیں۔اگر کوئی چور خود ہی مال پولیس کے حوالے کر دے تو عدالت اسے چھوڑ دے گی۔اس لئے پولیس کو مجبوراًیہ کہانی بنانی پڑتی ہے کہ یہ مال فلاں جگہ دفن تھا جو فلاں فلاں ذیلدار ، نمبر دار یاز میندار کے روبرو ملزم نے نکال کر دیا اور ظاہر ہے کہ جب ملک کے عام حالات یہ ہوں تو سیچ کو قائم رکھنا بہت ہی مشکل ہے۔دنیا میں آج تک جتنے انبیاء گزرے ہیں میں سمجھتا ہوں ان سب کی امتوں سے زیادہ اس زمانہ میں سچائی کے ساتھ وابستگی کو قائم رکھنا مشکل ہے۔صحابہ کرام کی حالت اور تھی۔عرب میں پہلے بھی سچ کی عادت تھی۔گو عرب لوگ چوری، ڈاکہ ، زنا، شراب خوری، جوابازی وغیرہ جرائم میں انتہاء کو پہنچے ہوئے تھے مگر سچائی کے پابند تھے۔بہت سی بُری عادات کے ساتھ ان میں ایک خوبی یہ تھی کہ سچ کے پابند تھے اور پھر مہمان نواز بھی تھے ، چور بھی تھے ، ڈاکو بھی، شرابی اور زانی اور جواری بھی مگر ساتھ مہمان نواز اور سچ بولنے والے بھی تھے۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک شخص نے خود اُن سے بیان کیا کہ حج کو جاتے ہوئے رستہ میں میں قافلہ سے الگ ہو گیا۔میر اسامان قافلہ کے ساتھ چلا گیا اور میرے پاس کچھ نہ تھا۔کئی روز کے فاقہ کے بعد مجھے ایک بدوی ملا۔ریگستانی علاقوں میں دس دس ہیں میں میل پر چھوٹے چھوٹے سر سبز قطعات بھی ہوتے ہیں اور بد وو ہیں اپنی رہائش رکھ لیتے ہیں۔