خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 473

$1940 472 خطبات محمود وہ اُجرت پر کام کرتے ہیں مگر جس قسم کی محنت انہیں کرنی پڑتی ہے اور وہ کر رہے ہیں وہ اخلاص کے بغیر نہیں ہو سکتی۔روزانہ کام کیا جائے، معمول سے دُگنا کیا جائے اور اچھا کیا جائے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔کاتب کا کام آنکھوں کا تیل نکالنا ہو تا ہے کیونکہ وہ ایک منٹ کے لئے بھی آنکھ اوپر نہیں اٹھا سکتا۔آنکھ کاغذ پر اور قلم ہاتھ میں لے کر بیٹھارہتا ہے اور بیٹھنا بھی ایک خاص طریق سے ہوتا ہے۔میں تو اس کام کے متعلق سمجھتا ہوں کہ عمر قید کی سزا ہے اور دیکھا گیا ہے کہ کاتب لوگ بہت جلد بوڑھے ہو جاتے ہیں کیونکہ کتابت کے کام میں انہیں سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔آنکھیں ہر وقت ایک ہی طرف لگی رہتی ہیں اس وجہ سے ان کی صحت ضائع ہو جاتی ہے۔ہم لوگ جو تصنیف کا کام کرتے ہیں ان سے زیادہ وقت کام میں دیتے ہیں مگر اس حصہ میں ان کا کام زیادہ مشقت طلب ہوتا ہے۔ہم تو کبھی پڑھ رہے ہوتے ہیں کبھی بیٹھ جاتے ہیں کبھی کوئی حوالہ تلاش کرنے لگتے ہیں کبھی لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر جو کچھ لکھتے ہیں وہ مضمون ہمارے ذہن میں ہوتا ہے۔اگر ہم آنکھیں بند بھی کر لیں تو لکھ سکتے ہیں زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ سطریں ٹیڑھی ہو جائیں گی مگر کاتب بیچارے کو دو طرف نظر رکھنی پڑتی ہے۔ادھر وہ ہمارے لکھے ہوئے کو دیکھتا ہے اور ادھر کاپی پر نظر جمائے رکھتا ہے۔پھر ہم تو جو چاہیں لکھتے جائیں لیکن کاتب کو اجازت نہیں ہوتی کہ اپنی طرف سے کچھ کرے اور کاتبوں کو اتنا علم بھی نہیں ہوتا کہ مضمون میں دخل دے سکیں۔یہ ایک کاتب کے متعلق مشہور ہے کہ اسے کسی نے قرآن مجید لکھنے کو دیا تو کہہ دیا کہ یہ خدا کا کلام ہے اس میں دخل نہ دینا۔اس نے کہا نہیں ہر گز دخل نہیں دوں گا۔جب وہ لکھ کرلایا تو لکھانے والے نے پوچھا کہیں دخل تو نہیں دیا۔کاتب نے کہا میں نے کوئی دخل نہیں دیا مگر ایک آیت جو غلط لکھی تھی وہ درست کر دی ہے۔اصل میں خَرِ عیسی ہے مگر آیت میں خَرِ مُوسی لکھا تھا۔چونکہ یہ صریح غلطی ہے اس لئے میں نے اس کی اصلاح کر دی ہے۔اس نے کہا آیت میں خَرَّ ہے خَرِ نہیں کہ خَرِ عیسی لکھا جائے۔تو کاتب کی لیاقت بھی عموماً اتنی نہیں ہوتی کہ اگر مضمون لکھنے والے سے کوئی غلطی ہو جائے جلدی لکھتے وقت میں، سے ، کو، وغیرہ الفاظ چُھوٹ بھی جاتے ہیں اور ایسی غلطیاں مصنف سے ہو جاتی ہیں تو کاتب کو یہ اجازت نہیں کہ مصنف سے جو غلطی ہو جائے اسے