خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 453

$1940 452 خطبات محمود بھی ہو جائیں تو انہیں ثواب تو ایک روپیہ کا ہی ملے گا لیکن اگر وہ غربت کی وجہ سے اس تحریک میں حصہ نہیں لیں گے مگر ان کے دل تڑپ رہے ہوں گے کہ کاش ان کے پاس روپیہ ہوتا اور وہ بھی اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح اس میں حصہ لیتے تو اس کے بدلہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علی قدر مراتب انہیں ایسا ہی ثواب ملے گا جیسے تحریک جدید میں اور حصہ لینے والوں کو ملے گا۔اور مزید بر آں وہ اس ایک روپیہ کو نیکی کے کسی اور کام میں صرف کر کے اللہ تعالیٰ سے اور زیادہ ثواب حاصل کر سکیں گے۔پس انہیں اس تحریک سے اپنے آپ کو مستقلی سمجھنا چاہیئے۔باقی ہر ایک دوست کو چاہئے کہ وہ اضافہ کے ساتھ اپنا چندہ لکھوائے۔یہ ضروری نہیں کہ جس نے گزشتہ سال پانچ روپیہ کا وعدہ کیا تھا وہ اب چھ روپیہ کا وعدہ لکھوائے بلکہ وہ ایک پیسہ اور ایک کہ آنہ دے کر بھی سابقون میں شامل ہو سکتا ہے۔اور جبکہ میں نے سابقون میں شامل ہونے کاراستہ ہر ایک کے لئے کھول دیا ہے اور میں نے اجازت دی ہوئی ہے کہ قلیل سے قلیل ایزادی سے بھی انسان سابقون کا ثواب حاصل کر سکتا ہے۔تو اس اجازت کے بعد کوئی ایسا شخص ہی سابقون کے ثواب سے محروم رہ سکتا ہے جسے یا تو اس بات کا علم نہ ہو اور یا اس کے دل میں سابقون کے زمرہ میں شامل ہونے کی کوئی قدر نہ ہو۔پس ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے پچھلے سال کے چندہ پر حسب توفیق دھیلہ ، پیسہ، دو پیسے، آنہ ، دو آنے یا اس سے زیادہ رقم بڑھا دے تاکہ وہ سابقون میں شامل ہو جائے اور اس کی ہر منزل پہلی منزل سے زیادہ بہتر ہو۔پھر ایک اور ذریعہ بھی سابقون میں شامل ہونے کا ہے اور وہ یہ کہ اسلامی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی دو حصوں میں منقسم ہے۔ایک حصہ تو انفرادی زندگی کہلاتا ہے اور دوسرا حصہ جماعتی زندگی کہلاتا ہے۔پس میرے نزدیک نہ صرف افراد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کا چندہ پہلے سال سے زیادہ ہو بلکہ جماعتوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کے وعدوں کی لسٹیں افراد کے لحاظ سے بھی اور وعدوں کے لحاظ سے بھی پہلے سالوں سے بڑھ کر ہوں۔در حقیقت قومی عزت بھی عزت ہی ہوتی ہے بلکہ اگر ہم غور کریں تو وہ بعض دفعہ ذاتی عزت سے بڑھ کر ہوتی ہے۔مثلاً زید قادیان کا باشندہ اگر اپنے وعدہ کی تمام شرائط کو پورا