خطبات محمود (جلد 21) — Page 452
$1940 451 خطبات محمود پہلے سال سے زیادہ چندہ دے۔میں نے کئی دفعہ بتایا ہے کہ پہلے سال سے بڑھ کر چندہ دینے کے یہ معنے نہیں کہ انسان پانچ یا دس یا ہیں یا سو روپے زیادہ دے بلکہ زیادتی ہر شخص کی مالی حیثیت پر منحصر ہے۔اگر کوئی شخص اپنے سابقہ چندے پر ایک پیسہ بھی بڑھاتا ہے تو خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ اضافہ ہی ہے۔اس لئے اپنے چندے بڑھانے میں سستی سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ ہر شخص کو کوشش کرنی چاہیئے کہ اس کا چندہ پہلے سالوں سے بڑھ کر رہے۔خدا تعالیٰ کو اس سے غرض نہیں کہ کسی کا اضافہ تھوڑا ہے یا بہت۔بلکہ جو بھی اپنے چندے پر اضافہ کرتا ہے خواہ وہ کیسا ہی قلیل کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ سابقون کے زمرہ میں لکھا جاتا ہے۔اور جبکہ یہ امتیاز اور فخر ایک پیسہ یا دھیلہ کی زیادتی سے بھی تمہیں حاصل ہو سکتا ہے تو کیسا نادان وہ ہے جو اتنا اضافہ بھی نہ کرے اور اس طرح سابقون میں شامل ہونے سے محروم رہے۔وہ شخص جو پانچ یا دس روپے چندہ دیتا ہے اس کے لئے ایک پیسہ کی زیادتی ایسی نہیں ہو سکتی جس کے متعلق وہ یہ کہہ سکے کہ وہ یہ اضافہ نہیں کر سکتا۔غرباء بھی اگر چاہیں تو ایک پیسہ دے کر سابقون میں شامل ہو سکتے ہیں۔پس جماعت کے ہر دوست کو کوشش کرنی چاہیئے کہ وہ تحریک جدید میں حصہ لے اور کوشش کرنی چاہیے کہ ہر سال کا چندہ پہلے سال سے بڑھ کر ہو خواہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ اضافہ کیا جائے تاکہ ہماری جماعت میں کوئی بھی شخص ایسا نہ رہے جو سباق سے محروم ہو۔وہ غرباء جو پانچ روپیہ چندہ دینے کی بھی طاقت نہیں رکھتے ان کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ اگر ان کا دل در دمند ہے اور وہ یہ تڑپ رکھتے ہیں کہ کاش ان کے پاس روپیہ ہو تا اور وہ اس میں شریک ہو سکتے تو وہ خد اتعالیٰ کے حضور چندہ دہندگان میں ہی شامل ہیں۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم سے ایک روپیہ لے لیا جائے اور ہمیں اس تحریک میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔میں ان سے کہتا ہوں کہ اگر ان کے دل میں واقع میں یہ تڑپ موجود ہے تو خد اتعالیٰ کے نزدیک وہ پہلے ہی اس تحریک میں شامل ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ یہ روپیہ کسی اور نیک کام پر صرف کر دیں اور اپنے متعلق اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھیں کہ وہ انہیں ایسا ہی ثواب دے گا جیسے ان لوگوں کو دے گا جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا۔اگر بالفرض وہ ایک روپیہ دے کر اس تحریک میں شامل