خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 404

$1940 خطبات محمود پر 403 سر دست رہنے دو مگر یہ بتاؤ کہ کوئی اعتراض میں نے چھپایا تو نہیں۔کہنے لگا ہم نے تو جس قدر اعتراضات مذہب کے متعلق سنے ہوئے تھے وہ سب کے سب آپ نے بیان کر دیئے ہیں۔میں نے کہا تو خیر جواب کسی اور وقت سمجھ آجائیں گے۔تو مخالف کے دلائل کو پورے طور پر کھول کر بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔مثلاً کفارے کا مسئلہ ہے۔اسے جس رنگ میں ہمارے علماء کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے وہ بالکل اور ہے۔آجکل عیسائی کفارہ کو اس طریق پر پیش نہیں کرتے بلکہ انہوں نے آہستہ آہستہ اسے فلسفیانہ مضمون بنا دیا ہے۔اسی طرح تناسخ کا مسئلہ بیان کرتے وقت عام طور پر سنی سنائی باتیں بیان کر دی جاتی ہیں حالانکہ جس رنگ میں آجکل تناسخ کا مسئلہ پیش کیا جاتا ہے وہ بالکل اور ہے۔اسی طرح شرک کے مسئلہ کو فلسفیانہ رنگ دے دیا گیا ہے مثلاً فلسفی دماغ والے بت پرست آجکل یہ نہیں کہتے کہ ہم ان کو سجدہ کرتے ہیں بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف اپنی توجہ قائم رکھنے کے لئے بت کی طرف اپنا منہ کرتے ہیں۔اسی طرح وہ کہتے ہیں کہ یہ بت خدا کی بعض صفات کے قائمقام ہیں۔اب اگر شرک کے مسئلہ کو صرف اسی رنگ میں بیان کر دیا جائے کہ بعض لوگ خدا کی بجائے بتوں کی پرستش کرتے ہیں تو اس سے بت پرستوں کی پوری تسلی نہیں ہو سکتی۔پس مخالفین کے اعتراضات کو کھول کھول کر بیان کرنا چاہیے اور ان کے اعتراض کی کسی شق کو چھپانا نہیں چاہیے۔اس اعتراض کے لئے میں نے اعلان کیا ہے کہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ کو ہر سال ایک ہفتہ ایسا منانا چاہیئے جس میں خدا تعالیٰ کی ہستی ، رسول کریم صلی للی کی کی نبوت، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت، خلافت اور دیگر مسائل اسلامی کے متعلق احمدیت کے عقائد کو دلائل کے ساتھ بیان کیا جائے اور پھر بتایا جائے کہ ان اعتقادات پر مخالفین کی طرف سے یہ یہ اعتراضات کئے جاتے ہیں اور ان اعتراضات کے یہ یہ جوابات ہیں۔اس کے بعد لوگوں کا زبانی امتحان لیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ انہوں نے ان باتوں کو کہاں تک یاد رکھا ہے۔چونکہ صرف ایک ہفتہ میں ان تمام مسائل کے متعلق جماعت کے دوستوں کو پوری واقفیت حاصل نہیں ہو سکتی اس لئے ہر سال یہ طریق جاری رہنا چاہیے اور کبھی کوئی مسائل بیان کر دیئے جائیں اور کبھی کوئی۔یہاں تک کہ