خطبات محمود (جلد 21) — Page 382
$1940 381 خطبات محمود یہ ہے کہ 18 سال سے پہلے صرف کمزوری کی بناء پر کبھی کبھی روزہ رکھنا جائز ہے مگر کمزوری سے میر امر اد معمولی ضعف نہیں جو عام طور پر روزوں کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہی کرتا ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو ایسا محسوس ہو کہ وہ روزہ بر داشت نہیں کر سکے گا۔پس جب تک بلوغت تامہ نہ ہو اس وقت تک محض اس وجہ سے کسی نہ کسی دن روزہ چھوڑ دینا جائز ہے اور وہ لوگ جو پابندی کے ساتھ اپنے بچوں سے جو ابھی بلوغت تامہ کو نہیں پہنچے رمضان کے تمام روزے رکھواتے ہیں ان کے متعلق میں آج بھی اس یقین پر قائم ہوں کہ وہ گنہگار ہیں کیونکہ آج تو وہ دباؤ ڈال کر اپنے بچوں سے روزے رکھوالیں گے مگر اس کے نتیجہ میں وہ ایسے کمزور ہو جائیں گے کہ بقیہ ساری عمر روزے رکھنے سے محروم رہیں گے۔پس کمزور بچوں کو محض کمزوری کی وجہ سے روزوں میں ناغے کر لینے جائز ہیں لیکن بلوغت کے بعد محض کمزوری کی بناء پر روزوں میں ایک ناغہ کرنا بھی جائز نہیں۔اس وقت صرف ایسی ہی کمزوری کی وجہ سے روزہ چھوڑا جا سکتا ہے جس کے متعلق ڈاکٹر کی یہ رائے ہو کہ اگر اس حالت میں روزہ رکھا گیا تو یہ بیمار ہو جائے گا۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میں نے خود کئی لوگوں کو دیکھا ہے جو روزہ نہیں رکھتے اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیوں نہیں رکھا تو جواب دیتے ہیں کہ روزہ رکھنے سے ہمیں بڑا ضعف ہو جاتا ہے حالانکہ روزہ تو شریعت نے مقرر ہی اس لئے کیا ہے کہ انسان کچھ کمزور ہو۔اس لئے تو مقرر نہیں کیا کہ روزہ رکھنے والا پہلے سے زیادہ موٹا ہو جائے۔مگر ہمارے ملک کے مسلمان امراء کی یہ حالت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے ان کے روزے ان کے لئے خوید کا کام دیتے ہیں یعنی جس طرح گھوڑے کو خو ید دی جائے تو وہ موٹا ہو جاتا ہے اسی طرح رمضان کے ایام میں انہیں دن رات کھانے کا فکر رہتا ہے۔شام ہوتی ہے تو سحری کے لئے تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں اور صبح ہوتی ہے تو انہیں افطاری کا فکر ہو جاتا ہے۔چنانچہ نوکروں میں سے کوئی تو پکوڑے تل رہا ہو تا ہے، کوئی سویاں پکا رہا ہوتا ہے، کوئی بادام اور پستہ تیار کر رہا ہوتا ہے، کوئی فرنی بنارہا ہوتا ہے، کوئی یخنی بنانے میں مشغول ہوتا ہے اور کوئی یا قوتی تیار کرنے میں مصروف ہوتا ہے۔غرض سارا دن گھر میں ایک آفت بپا رہتی ہے اور جب خدا خدا کر کے روزہ افطار ہوتا ہے تو اسی وقت سے سحری کا فکر ہو جاتا ہے اور