خطبات محمود (جلد 21) — Page 381
$1940 380 خطبات محمود اور ساٹھ مسکینوں کے کھانے کا ابھی انتظام کر دو۔میں روزہ توڑ دیتا ہوں۔یہ کہہ کر اس نے روزہ توڑ دیا اور کہنے لگا الْحَمدُ لِلهِ اسلام بھی کیسا با برکت مذہب ہے کہ اس نے انسان کو ہر قسم کی سہولتیں دے رکھی ہیں اور کسی موقع پر بھی کوئی تکلیف پیش نہیں آتی۔اس نے اپنی طرف سے سمجھا کہ روزانہ گھر میں کئی کئی کھانے تو پہلے ہی پکتے ہیں آج اگر ساٹھ مسکینوں کو میں نے کھانا کھلا دیا تو کون سی بڑی بات ہو گی حالانکہ یہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی سزا اس کے لئے ہے جو جذبات نفسانی کے جوش کے ماتحت غلطی سے روزہ توڑ دیتا ہے۔اس کے لئے نہیں جو دیدہ دانستہ روزہ توڑلے اور ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا کر سمجھ لے کہ چھٹی ہو گئی۔اب اس کا کوئی جرم نہیں رہا۔جو شخص دیدہ دانستہ روزہ چھوڑتا ہے وہ خد اتعالیٰ کا مجرم ہے اور کوئی ظاہری سزا اس کا کفارہ نہیں ہو سکتی۔تو امراء کے لئے میں کون کون سی چیز گناؤں۔ان کے لئے تو ساری عبادتیں ہی بڑی نیکیاں ہیں مگر پھر بھی چونکہ دنیا میں مُخْتَلِفُ الْأَنْوَاع لوگ رہتے ہیں اس لئے کسی کے لئے حج بڑی نیکی ہے، کسی کے لئے زکوۃ بڑی نیکی ہے، کسی کے لئے روزہ بڑی نیکی ہے، کسی کے لئے نماز بڑی نیکی ہے۔اس اصل کے ماتحت جو لوگ روزہ رکھنے میں سستی کرتے ہوں ان کے لئے روزہ رکھنا سب سے بڑی عبادت ہے۔اگر وہ اپنے نفس میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان سے روزہ رکھنے میں سستی ہو جاتی ہے تو انہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ ان کے لئے بڑی عبادت روزہ ہے۔اگر وہ روزے رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ کے قرب کو زیادہ جلدی حاصل کر لیں گے یہ نہیں کہ ان کے لئے دوسری عبادتیں معاف ہو جائیں گی۔معاف تو کوئی عبادت بھی نہیں ہو سکتی البتہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے قرب کا حصول زیادہ تر روزوں پر ہی مبنی ہو گا اور اس نیکی کا انہیں اور نیکیوں کے مقابلہ میں زیادہ ثواب ملے گا۔پس نیکیوں میں سے کسی ایک نیکی کا ترک کرنا بھی گناہ ہے لیکن نیکیوں میں سے اس نیکی کو اختیار کرنے میں زیادہ ثواب ہے جس کے بجالانے میں انسان سے سستی ہو جایا کرتی ہو۔پس وہ لوگ جو روزہ رکھنا اپنے لئے ایک قسم کا بوجھ سمجھتے ہیں انہیں روزہ رکھنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور اس بہانہ سے اس حکم کو ٹالنا نہیں چاہیئے کہ روزہ رکھنے سے انہیں کمزوری ہو جاتی ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ میں نے پہلے کہا اور جو کچھ میں آج بھی کہتا ہوں وہ صرف