خطبات محمود (جلد 21) — Page 373
$1940 372 خطبات محمود کوئی شخص محض اس عذر کی بناء پر روزہ نہیں چھوڑ سکتا کہ روزہ رکھنے سے اسے ضعف ہوتا ہے کیونکہ رمضان اس لئے نہیں آتا کہ جس طرح گھوڑے کو خوید دی جاتی ہے اور وہ موٹا ہو جاتا ہے اسی طرح انسان موٹا تازہ ہو جائے بلکہ روزے رکھنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسان دُبلا ہو اور اسے مشقت برداشت کرنے کی عادت پڑے مگر 18 سال سے پہلے کی عمر میں جب روزے رکھنے سے ایسی کمزوری ہو جانے کا احتمال ہو جو نشو و نما میں روک بن جائے یا ایسی کمزوری پیدا ہونے کا خطرہ ہو خواہ سل یا دق وغیرہ کا خطرہ نہ ہو تو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔البتہ 18 سال کے بعد اگر کوئی رمضان کے تیس روزوں میں سے ایک روزہ بھی بیماری یا سفر کے سوا نہیں رکھتا تو وہ گنہ گار بنتا ہے۔جیسے تم روز کی پانچ نمازوں میں سے ایک نماز بھی چھوڑ نہیں سکتے۔تم ہفتہ کی پینتیس نمازوں میں سے ایک نماز بھی نہیں چھوڑ سکتے ، تم سال کی 1825 نمازوں میں سے ایک نماز بھی نہیں چھوڑ سکتے۔اسی طرح تم رمضان کے تیس روزوں میں سے ایک روزہ بھی نہیں چھوڑ سکتے۔بغیر اس کے کہ تم بیمار ہو ، بغیر اس کے کہ تم سفر پر ہو، بغیر اس کے کہ تم میں اس قسم کی کمزوری ہو جو بیماری کے قریب قریب ہوتی ہے جیسے شدید بڑھاپا ہے یا دودھ پلانے والی اور حاملہ عورت کا روزہ نہ رکھنا ہے۔وہاں کوئی بیماری تو نہیں ہوتی مگر چونکہ ان ایام کی کمزوری ماں یا بچہ میں بیماری پیدا کرتی ہے اس لئے انہیں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔تو روزہ رکھنے میں صرف وہی کمزوری روک بنتی ہے جو بیماری پیدا کرنے والی ہو مثلاً ایک شخص دُبلا پتلا ہے اس کا سینہ کمزور ہے اور ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر اس نے روزے رکھے تو اسے سل ہو جائے گی ایسے انسان کے لئے روزے رکھنے جائز نہیں کیونکہ گو سر دست اسے صرف کمزوری کی شکایت ہے مگر ڈاکٹر کی رائے میں اگر وہ کمزور ہو ا تو اسے سل کی مرض لگ جائے گی۔غرض جب انسان کی 18 سال کی عمر ہو جائے اور 18 سال کی بھی شرط نہیں جب انسان بلوغ کو پہنچ جائے خواہ کسی عمر میں پہنچے تو اس کے بعد اگر کوئی شخص محض اس وجہ سے روزہ نہیں رکھتا کہ روزہ رکھنے سے اسے کمزوری ہو جاتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور گنہگار ہو گا سوائے اس کے کہ ڈاکٹر نے اسے یہ کہا ہو کہ اگر تم روزہ رکھو گے تو بیمار ہو جاؤ گے یا بیماری سے اٹھا ہو ا مر یض ہو اور مرض کے دوبارہ ہو جانے کا ابھی خطرہ موجود ہو مثلاً ایک شخص کو بخار ہے