خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 367

$1940 366 خطبات محمود تفسیر سے کئی گنے بڑھ کر ہوتا ہے۔انبیاء کا علم تو بہت وسیع ہوتا ہے میں نے تو اپنے متعلق دیکھا ہے کہ جب میں کسی آیت کی تفسیر لکھنے بیٹھتا ہوں تو اس کے بیسیوں مطالب مجھ پر کھلتے چلے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان تمام کو لکھ ڈالوں مگر پھر سوچتا ہوں کہ اگر ان تمام باتوں کو بیان کروں تو تفسیر کے محدود صفحات ان کے کہاں متحمل ہو سکتے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ چند مطالب لکھ دئے جاتے ہیں اور باقی چھوڑ دئے جاتے ہیں اور یہ تو ایک وقت کا حال ہے۔دوسرے وقت پھر اس آیت کے بیسیوں معانی منکشف ہو جاتے ہیں اور انہیں کسی ایک تفسیر میں لکھ دینا بالکل ناممکن دکھائی دیتا ہے۔پس یہ خیال کر لینا کہ کسی ایک انسان کی تفسیر بھی اس کے علم کے لحاظ سے مکمل کہلا سکتی ہے صحیح نہیں۔روزانہ ہمیں نئے نئے علوم ملتے رہتے ہیں اور یہ تو میری حالت ہے۔انبیاء جو خاص طور پر مُؤَيَّد من اللہ ہوتے ہیں ان کے علوم تو بہت ہی غیر محدود ہوتے ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگر قرآن کریم کی کوئی تفسیر لکھتے تو بھی ہزاروں باتیں رہ جاتیں ہزاروں مطالب تشنہ تکمیل رہتے اور ہزاروں باتیں ایسی ہو تیں جو آپ بیان نہ کر سکتے کیونکہ تفسیر محدود چیز ہے اور قرآنی علم غیر محدود ہے۔اسی وجہ سے آپ نے قرآن کریم کی کوئی مستقل تفسیر نہیں لکھی۔ہاں آپ نے ہمیں وہ ملکہ عطا کر دیا ہے جس سے ہم قرآن کریم کی تفسیر کر سکتے ہیں اور آپ نے ہمیں وہ گر بتادے ہیں جن سے قرآن کریم کی تفسیر ہمیں آگئی اور ایسی آئی کہ اب وہ مکمل طور پر اگر ہم لکھنا بھی چاہیں تو نہیں لکھ سکتے۔غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں قرآن کریم کی سمجھ دی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی تفسیر مکمل نہیں کہلا سکتی۔ایک میرے ہی دماغ کی باتیں جب تفسیر میں نہیں آسکتیں تو ہماری جماعت میں اور ہزاروں لاکھوں جو احمدی ہیں ان کے علوم کسی ایک کتاب میں کس طرح بیان ہو سکتے ہیں۔اسی طرح آئندہ زمانوں میں ایسے لوگ پید اہوتے رہیں گے جن پر قرآن کریم کے نئے سے نئے علوم منکشف ہوتے رہیں گے ور یہ بالکل ناممکن ہو گا کہ ان سب کو کسی تفسیر میں یکجائی طور پر بیان کیا جاسکے۔اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا چلا جائے گا جب تک جماعت احمدیہ کے افراد اس یقین پر قائم رہیں گے کہ اور