خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 366

$1940 365 خطبات محمود الله سة ور صحیح مفہوم انہیں نہیں مل رہا اور وہ بے تابی سے اس بات کے منتظر ہیں کہ اگر انہیں قرآن کریم کا کوئی صحیح ترجمہ اور اس کی اچھی تفسیر ملے تو اسے پڑھیں۔پس یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کام کیا ہے اس سے آسانی سے تمام مسلمانوں کو روشناس کرایا جاسکتا ہے اور لوگ بغیر کسی خوف کے ان خیالات کو پڑھ سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم اپنے مطالب مضمون کے لحاظ سے بیان کرتا ہے اور اس میں اس طرح بحثیں نہیں ہو تیں جس طرح دوسری کتب میں ہوتی ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم کے مطالب پر ہی ہمارے سلسلہ کی بنیاد ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں جو کچھ ہے وہ قرآن کریم کی تفسیر ہی ہے۔نادان کہتے ہیں کہ ہم نے تو قرآن کریم کی تفسیر لکھ دی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی تفسیر نہیں لکھی۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام کتابیں قرآن کریم کی تفسیر ہی ہیں۔جیسے حضرت عائشہ نے رسول کریم صلی ا و م کے متعلق فرمایا تھا کہ كَانَ خُلُقَهُ كُلَّهُ الْقُرْآنُ 3 یعنی آپ کے اخلاق اگر معلوم کرنے ہوں تو قرآن کریم پڑھ لو۔جو کچھ قرآن میں لکھا ہے وہی آپ کے اخلاق سے ظاہر ہوتا ہے۔اسی طرح ہم کامل سچائی کے ساتھ بغیر کسی قسم کے مبالغہ کے کہہ سکتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں قرآن کریم کی تفسیر ہیں اور دراصل ہم جو کچھ بیان کرتے ہیں وہ بھی آپ کی بیان کر دہ باتوں سے ہی مستنبط ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض آیات کی تفسیر نہیں کی مگر اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ہم ان آیات کی جو تفسیر کرتے ہیں وہ اسی نور کی برکت سے کرتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں عطا فرمایا۔اس کی ایسی مثال ہے جیسے کسی لیمپ سے جنگل میں سے کوئی چیز تلاش کی جائے۔اب بے شک وہ چیز اس لیمپ والے نے تلاش نہیں کی بلکہ خوداس نے کی ہوگی مگر اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ اگر اس کا لیمپ اس کے پاس نہ ہوتا تو یہ اس چیز کو تلاش نہ کر سکتا۔اسی طرح انبیاء اپنے ماننے والوں میں ایک ایسا ملکہ پیدا کر جاتے ہیں جس سے کام لے کر وہ اعلیٰ سے اعلیٰ تفسیریں کر سکتے ہیں اور یہ ملکہ اپنی اہمیت کے لحاظ سے