خطبات محمود (جلد 21) — Page 353
$1940 352 خطبات محمود سے واقفین کا مطالبہ کیا اور سینکڑوں نے وقف کیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ چھ ماہ میں آریہ ناکام ہو گئے اور صلح کی تجویزیں کرنے لگے۔گاندھی جی نے برت رکھ لیا۔ان کی زندگی کو بچانے کے لئے دہلی میں ایک کانفرنس بلائی گئی کہ آپس میں صلح ہو جانی چاہیئے۔ہمارے کسی آدمی کو نہ بلایا گیا۔شیخ عبد الرحمن صاحب مصری جو آب سخت مخالف ہیں میرے پاس آئے اور کہا کہ یہ جماعت کی سخت ہتک ہے۔ہمارا کوئی آدمی انہوں نے نہیں بلایا ان کو توجہ دلانی چاہیئے۔میں نے کہا کہ کبھی خود بھی عزت کروایا کرتے ہیں۔وہ ہمارے بغیر صلح نہیں کر سکتے وہ آپ کو بھی بلائیں گے۔چنانچہ اُسی دن یا دوسرے دن مولانا ابوالکلام صاحب آزاد ، حکیم اجمل خان صاحب اور ڈاکٹر انصاری صاحب کی تار آئی کہ اپنا نمائندہ بھجوائیں۔مغربی لوگوں نے ایک طریق اصلاح ایجاد کیا ہے جسے STATUS CO کہتے ہیں۔یعنے آئندہ لڑائی بند کر دی جائے اور جو کچھ ہو گیا ہے بس اس کو بڑھایا نہ جائے۔مجھے معلوم تھا کہ یہ اسی قسم کی صلح کی درخواست پیش کریں گے کہ آئندہ کے لئے دونوں اقوام تبلیغ بند کر دیں۔حالانکہ اس عرصہ میں آریوں نے ہمیں ہزار مسلمانوں کو ہندو بنا لیا تھا۔میں نے اپنے نمائندوں کو بتایا کہ وہ یہ تجویز پیش کریں گے لیکن تم یہ کہنا کہ اس وقت تک ہندو ہیں ہزار مسلمانوں کو ہندو بنا چکے ہیں۔پس سٹیٹس کو یہ نہیں کہ آج صلح کی جائے۔STATUS CO یہ ہے کہ جو ہندو ہو چکے ہیں ان کو دوبارہ مسلمان کر دیا جائے۔پھر بے شک صلح کر لیں۔لیکن جب تک وہ آریہ ہیں ہم وہاں رہیں گے۔چنانچہ اس کا نفرنس میں شردھانند جی نے یہی تجویز پیش کی۔جمعیۃ العلماء کے ممبروں نے کہا کہ واہ واہ بالکل درست تجویز ہے مگر ہمارے آدمیوں نے وہی کہا جو میں نے سمجھایا تھا اور کہا کہ اس کا تو مطلب یہ ہے کہ جو چھاپہ مارے وہ فائدے میں رہے اور جو شرافت سے سلوک کرے وہ نقصان اٹھائے۔اُس وقت شردھانند جی نے ایک فقرہ کہا جو ہماری جماعت کے لحاظ سے ایک تاریخی فقرہ ہے۔جب مفتی کفایت اللہ صاحب نے کہا کہ احمدیوں کو جانے دو ان کی پرواہ نہ کرو ہمارے ساتھ صلح کر لو تو شردھانند جی نے جواب میں کہا کہ مجھے آپ کے ہزار مبلغ کا ڈر نہیں لیکن جب تک احمدیوں کا ایک بھی مبلغ وہاں ہے ہم صلح نہیں کر سکتے۔چنانچہ ہماری ملکانے میں کوشش کے نتیجہ میں چار پانچ ہزار واپس آگئے۔یہ ہمارے