خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 352 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 352

$1940 351 خطبات محمود یہ صرف سیاسی مسئلے نہیں بلکہ مذہبی بھی ہیں۔تبلیغ میں سست ہونے سے بعض دفعہ نتیجہ خراب ہو تا ہے اور ایک شخص احمدیت کے قریب پہنچ کر ذرا سی ستی سے دور جا پڑتا ہے اور بعض دفعہ پہلے سے بھی زیادہ مخالف ہو جاتا ہے۔نواب سیف اللہ خاں صاحب جو ڈیرہ اسماعیل خان کے رئیس تھے ، اب فوت ہو گئے ہیں ایک دفعہ جلسہ پر آئے مجھ سے بھی ملاقات ہوئی اور باتیں ہوتی رہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر صداقت کھل گئی۔ایک دن ان کے میزبان میرے پاس آئے اور پوچھا کہ نواب صاحب نے بیعت کر لی ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ تو مجھے کہہ کر آئے تھے کہ میں بیعت کرنے جارہا ہوں۔چنانچہ انہوں نے جب ان سے پوچھا تو نواب صاحب نے کہا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سچا تسلیم کرتا ہوں اور ان کی ہر بات مانتا ہوں اور بیعت کرنے کے لئے گیا تھا لیکن فلاں شخص جو میرے ساتھ آیا ہے اس نے یاد دلایا کہ وہاں کے لوگوں نے چلتے ہوئے کہا تھا کہ قادیان میں جادو کیا جاتا ہے۔اب اگر ہم نے بیعت کر لی تو لوگ اس عقیدہ میں پکے ہو جائیں گے۔اس وجہ سے میں نے بیعت ملتوی کر دی ہے۔واقعہ یہ تھا کہ نواب صاحب چونکہ سلسلہ کا لٹریچر پڑھ رہے تھے مخالفوں نے اس سے ڈر کر کہ کہیں بیعت نہ کر لیں ساتھ ایک ٹھیکیدار کر دیا جو ہوشیار آدمی تھا۔اس نے یہ بہانہ بنا کر ان کو بیعت سے روک دیا۔چنانچہ وہ قادیان سے بغیر بیعت کئے چلے گئے اور آہستہ آہستہ ان کے دل پر زنگ لگ گیا اور وہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی نعمت سے محروم رہ گئے۔اگر وہ حَيَّ عَلَی الْفَلَاح پر عمل کرتے یا کوئی ان کا دوست انہیں اس پر عمل نہ کرنے کے خطرات سے آگاہ کر دیتا تو کبھی ایسا نہ ہوتا۔عام تجربہ بھی بتاتا ہے کہ جن علاقوں میں تبلیغ شروع کی جاتی ہے پہلے پہلے لوگ جلدی جلدی احمدیت میں داخل ہوتے ہیں لیکن بعد میں مخالفین اپنی شرارتوں سے روکیں ڈال دیتے ہیں۔پس حَيَّ عَلَى الفلاح پر عمل کرتے ہوئے چاہیئے کہ جلدی کی جائے اور دشمن سے پہلے ہی سارا کام کر لیا جائے اور وہ علاقہ فتح کر لیا جائے۔علاقہ ملکانہ میں بھی ہماری کامیابی اسی میں تھی۔اگر اُس وقت میں تین چار مولویوں کو بھیج دیتا تو کچھ کام نہ ہو سکتا۔میں نے جماعت