خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 340

$1940 339 خطبات محمود میری طرف سے ایک سودا ہو رہا تھا اور ایسی صورت میں دوسرے فریق کا حق تھا کہ وہ اگر چاہتا تو زمین زیادہ قیمت پر دوسرے کو دے دیتا۔اگر میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتا ہوں تو میری حیثیت خلیفہ کی ہوتی ہے، اگر میں جماعت کو کوئی حکم دیتا ہوں تو میری حیثیت خلیفہ کی ہوتی ہے لیکن اگر میں اپنے لئے یا اپنے خاندان کے لئے کوئی زمین خرید تا ہوں تو اس میں میری حیثیت خلیفہ کی نہیں ہوتی اور دوسرا اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ سودے سے انکار کر دے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے تر کاری بکنے لگے تو ایک طرف سے میرا آدمی ترکاری لینے کے لئے چلا جائے اور دوسری طرف سے جماعت کا کوئی اور آدمی۔اب ایسے موقع پر اگر میرا آدمی دوسرے سے یہ کہے کہ تم تر کاری مت خرید و کیونکہ خلیفہ المسیح یہ تر کاری لینا چاہتے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہو گی کیونکہ جیسے میرا حق ہے کہ ترکاری لوں اسی طرح اس کا حق ہے کہ وہ ترکاری لے۔اگر وہ پہلے پہنچ جاتا ہے تو یقینا اسی کو حق ہے۔گو بعض دفعہ شریفانہ رنگ میں ایک دوسرے کی ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا جاسکتا ہے۔اگر اس کی ضرورت زیادہ اہم ہو گی تو میرا آدمی اپنا حق چھوڑ سکتا ہے اور اگر میرے آدمی کی ضرورت زیادہ ہو گی تو دوسرا اپنا حق چھوڑ سکتا ہے۔پس جماعت کے عہدیداروں کو میں نصیحت کرتاہوں کہ ہر چیز کو اس کی حد کے اندر رکھو۔اگر تم اسے حد سے بڑھا دو گے تو وہ چیز خواہ کتنی ہی اعلیٰ ہو بُری بن جائے گی۔ایک شاعر کا ایک شعر ہے جو مجھے یاد تو نہیں رہا مگر اس کا مفہوم یہ ہے کہ تل بڑی خوبصورت چیز ہے لیکن جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو مشا بن جاتا ہے۔پس ہر چیز کو اس کی حد کے اندر رکھو۔نظام کو بھی اور انفرادی معاملات کو بھی۔اور کبھی اپنے عہدوں کا نام لے کر ذاتی معاملات میں دوسروں پر وو رعب نہ ڈالو۔” (الفضل 27 جولائی 1960ء) پس جماعت کے عہدیداروں کو میں نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ رعب کا کوئی جائز طریق نہیں۔محض ناظر ہونا تمہیں یہ حق نہیں دے دیتا کہ تم درست معاملات میں بھی لوگوں پر اپنی نظارت کا رعب ڈالو۔رعب ناظر ہونے میں نہیں بلکہ اولی الامر ہونے اور شریعت کے مطابق چلنے میں ہے۔اگر میری اس نصیحت کے بعد بھی کسی کے متعلق میرے پاس یہ