خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 339

$1940 338 خطبات محمود خلیفہ مقرر کر جائیں؟ میں نے کہا اختیار تو ہے مگر میں اس اختیار کو استعمال نہیں کرنا چاہتا اور آئندہ کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ حالات کیا صورت اختیار کریں۔غرض ان کی ساری کوشش اسی امر پر مرکوز رہی کہ میں یا تو اپنے رشتہ داروں میں سے کسی کے متعلق کہہ دوں کہ میرے بعد وہ خلیفہ ہو گا یا دنیوی لحاظ سے ان کی نگاہ چونکہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پر پڑ سکتی تھی اس لئے انہوں نے سمجھا کہ اگر کوئی رشتہ دار خلیفہ نہ ہوا تو شاید وہ ہو جائیں مگر میں نے انہیں کہا کہ یہ میرا کام نہیں کہ میں انتخاب کرتا پھروں۔یہ خدا کا کام ہے اور میں تو محض سلسلہ کے ایک خادم کے طور پر کام کر رہا ہوں۔غرض ہم میں سے کوئی بھی نہیں جسے اس قسم کا اختیار حاصل ہو۔ہمیں جو حکومت حاصل ہے وہ شریعت کے ماتحت اولی الامر ہونے کے لحاظ سے ہے۔پس جتنا امر ہو گا اتنی ہی حکومت ہو گی اور جو شخص اس حکومت کے دائرہ کو وسیع کرے گاوہ نظام کا دشمن قرار پائے گا۔پس عام دنیوی معاملات میں دوسروں سے یہ کہنا کہ میں ناظر امور عامہ ہوں یا ناظر اعلیٰ ہوں نظارت کے جامہ کی بہتک ہے۔وہاں وہ ناظر نہیں بلکہ ایک فرد کی حیثیت رکھے گا اور اسے دوسروں پر کوئی تفوق حاصل نہیں ہو گا۔اسلام میں اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ خلفاء پر دیوانی ناشیں ہوئیں اور انہیں قضاء میں جواب کے لئے بلایا گیا۔اب فرض کرو کہ کسی کو میرے خلاف کوئی شکایت ہو مثلاً وہ کہے کہ انہوں نے میرا اتنا روپیہ دینا ہے مگر دیتے نہیں یا اتنا دیا ہے اور اتنا نہیں دیا تو اسے اس بات کا پوراحق ہے کہ وہ اگر چاہے تو قضاء میں میرے خلاف دعوی دائر کر دے۔وہاں مجھے اسی طرح جواب دینا پڑے گا جس طرح ایک عام شخص قضاء کے سامنے جوابدہ ہو تا ہے لیکن جہاں خدا نے مجھے کوئی حق دیا ہے وہاں وہ میر احق چھین نہیں سکتا۔” (از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ) پس جماعت کے دوستوں کو میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ نظام کی برکتیں اس کی پیچیدگیوں کو حل کرنے سے حاصل ہوتی ہیں ورنہ نظام کے لفظ کا اندھا دھند استعمال خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔جیسے ہمارے مختار نے ایک زمین کے معاملہ میں دوسرے سے کہہ دیا کہ تمہارا مقابلہ خلیفہ المسیح سے ہے حالانکہ وہاں خلافت کا کوئی سوال نہ تھا بلکہ اپنی ذاتی حیثیت میں