خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 320

$1940 319 خطبات محمود فرض ہے۔اسے کسی بڑے آدمی کے فاقہ کی وجہ سے قبول نہیں کرنا چاہیے بلکہ سچائی سمجھ کر قبول کرنا چاہیے۔کانگرس جو بات کہتی ہے اگر وہ درست ہے تو گاندھی جی تو خیر لیڈر ہیں اگر کوئی چمار بھی کہے تو اسے مان لینی چاہیئے لیکن اگر وہ بات ناحق ہے تو اسے گاندھی جی کی فاقہ کشی سے ڈر کر نہیں ماننا چاہیئے۔اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتی اور جب میں دنیوی گورنمنٹ کے لئے بھی اس بات کو جائز نہیں سمجھتا تو آسمانی کے لئے کس طرح سمجھ سکتا ہوں۔اگر ایسی باتوں سے میں متاثر ہو جاؤں تو پھر ایسے سلسلہ کی ضرورت ہی کیا ہے جسے ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں۔ایسے افعال شریعت کے خلاف ہیں۔یہ خیال کرنا کہ ایسی باتوں سے مجھ تک آواز پہنچائی جاسکے گی یا میں متاثر ہو جاؤں گا بالکل غلط ہے۔اگر میں خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ ہوں تو ایسی باتوں سے ہر گز متاثر نہیں ہو سکتا اور جو ایسی باتوں سے متاثر ہوتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کا مقرر کر دہ خلیفہ وہی ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ پر توکل کرے، جو یہ یقین رکھتا ہو کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور خود خدا تعالیٰ اس کا حافظ ہے۔ہمارا کام خد اتعالیٰ کی عظمت کو قائم کرنا ہے نہ کہ اپنی نیک نامی۔اگر ہمیں اپنی نیک نامی مطلوب ہو تو اس سلسلہ میں رہنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر آج ہم کانگرس میں شامل ہو جائیں تو ہماری کتنی نیک نامی ہو سکتی ہے ، اگر آج حکومت کے خلاف ہو جائیں تو آزاد طبقہ بوجہ اس کے کہ ہم ایک منظم جماعت ہیں ہماری کتنی قدر کرے گا؟ اگر وہی رسوم اور بدعات کی تائید کرنے لگیں جو غیر احمدیوں میں رائج ہیں تو کس طرح وہ خوش ہو کر ہماری تعریفیں کریں گے ؟ پس دنیا میں نیک نامی کے وہی ذرائع ہیں جو خد اتعالیٰ اور اس کے سول سے دور پھینکتے ہیں اور ان کو قبول کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ہماری نیک نامی اسی میں ہے جس میں خدا تعالیٰ خوش ہو ، چاہے دنیا میں کتنی بدنامی ہو۔محمد رسول اللہ صلی ا ہم کو لوگ عمر بھر پاگل کہتے رہے لیکن اگر وہ ان باتوں کو اختیار کر لیتے جن سے لوگ خوش ہوتے تو سب ان کی تعریفیں کرتے۔حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کو لوگوں نے پاگل کہا مگر کیا وہ ان باتوں سے ڈر گئے ؟ پس مومن ان چیزوں سے کبھی نہیں ڈرتا اور جو مومن ہو وہ ان چیزوں سے ڈراتا بھی نہیں اور ایسے نعرے اور مظاہرے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ڈرایا جائے۔