خطبات محمود (جلد 21) — Page 319
$1940 318 خطبات محمود۔اگر تم جماعت کو سچا سمجھتے ہو تو یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ سارے کے سارے غلطی کریں اور دیدہ دانستہ ظلم کریں اور اگر ایک دو سے ظلم کا اندیشہ ہو تو کہیں نہ کہیں پہنچ کر اس کی اصلاح کا یقین ہونا چاہیئے لیکن اگر ساری جماعت میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں کہ جو قابل اعتبار ہو تو یہ بڑی بے شرمی کی بات ہے کہ انسان اس جماعت میں شامل ہو جس کے اوپر سے لے کر نیچے تک سب ظالم ہوں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ 1 - اگر سارا نظام ہی خراب ہے اور سب ظالم ہیں تو اس میں شامل رہنا گویا دین و دنیا دونوں کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔جب سلسلہ کی طرف سے ایک طریق مقر ر ہے تو جو اسے اختیار نہیں کر تاوہ اگر ناواقف ہے تو اسے سمجھانا چاہیے اور اگر ناواقف نہیں تو به تکرار خود سزا کا مستحق ہے۔چونکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی اور بھی ایسے لوگ ہوں جن کو شبہات ہوں ان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے اگر کسی کو کسی سے کوئی شکایت ہے تو اس کے لئے قضاء کا دروازہ کھلا ہے۔شکایت خواہ کسی ناظر کے خلاف ہو یا ناظر اعلیٰ کے ، اس میں کوئی استثنیٰ نہیں۔جسے کوئی تکلیف کسی سے پہنچے وہ قضاء میں جاسکتا ہے اور اگر جرم قابل دست اندازی پولیس ہو تو اطلاع دے کر پولیس میں جاسکتا ہے لیکن اس قسم کے مظاہروں کی اجازت کسی صورت میں نہیں دی جا سکتی اور نہ ان کا کوئی فائدہ ہے۔اگر کوئی شخص نعرے لگانا تو در کنار میرے دروازہ پر بیٹھ کر چیختا ر ہے تو خواہ گلا پھاڑ پھاڑ کر چیختار ہے حتی کہ گلا بیٹھ جائے خواہ ساری عمر نعرے لگاتا رہے اگر میں اس سے متاثر ہو جاؤں تو ان اصول کے مطابق جن کو میں صحیح سمجھتا ہوں میں خلافت کا مستحق نہیں ہوں گا۔نعرے لگانا تو الگ رہا اگر کوئی فاقہ کشی کرے حتی کہ مر بھی جائے تب بھی اسلامی اصول کے مطابق وہ توجہ کے قابل نہیں کیونکہ یہ نظام میں دخل اندازی ہے۔یہ ایک قسم کا دباؤ ہے۔جو اسے قبول کرتا ہے وہ بزدل ہے اور اللہ تعالیٰ کے اعتماد کا ہر گز اہل نہیں۔میں تو حکومت کو بھی یہی مشورہ دیتا رہتا ہوں کہ اگر وہ کانگرس کے کسی مطالبہ کو درست سمجھتی ہے تو اسے پہلے ہی مان لے لیکن اگر وہ صحیح نہیں سمجھتی تو ایک گاندھی چھوڑ ہزار گاندھی بھی فاقے کریں اسے متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔سچائی کو ہر حال میں قبول کرنا حکومت کا