خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 31

1940 31 خطبات محمود اور وہ ناتواں اور نحیف بندہ چھوٹے سے نادان بچے کی طرح مٹھیاں بھینچ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں بچاؤں گا، میں بچاؤں گا۔پھر وہ صرف کہتا ہی نہیں بلکہ اس کو بچانے میں لگ جاتا ہے۔اس بچہ کا تو عشق کامل نہیں ہو تا۔اگر واقع میں جو شخص ہنسی کر رہا ہوتا ہے وہ اس بچے کو تھپڑ مارے تو اس نے ماں کو تو کیا بچانا ہے وہ خود ماں سے لپٹ جائے گا اور دوڑ کر اس کی گود میں چلا جائے گا۔مگر یہ شخص ایسا ہوتا ہے کہ دنیا اسے مارتی ہے ، ہاتھوں سے بھی اور لاتوں سے بھی اور دانتوں سے بھی اور چاروں طرف سے اس پر لعنت اور پھٹکار ڈالی جاتی ہے مگر وہ اپنے جسم کو ہلا تا نہیں ، وہ چیختا نہیں، وہ چلاتا نہیں بلکہ برابر مقابلہ کئے جاتا ہے۔یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہونے لگتی ہیں اور ایک ایک کر کے ، ایک ایک کر کے بندوں کو وہ خدا تعالیٰ کے دربار میں لانا شروع کر دیتا ہے۔وہ کمزور باز و طاقت پکڑنے لگ جاتے ہیں ، وہ لڑکھڑانے والی زبان مضبوط ہونے لگ جاتی ہے ، وہ دبی ہوئی آواز طاقت و قوت پکڑتی جاتی ہے اور وہ نہایت ہی ذلیل نظر آنے والا وجو د اپنے اندر ایسی ہیبت پیدا کر لیتا ہے کہ لوگ اس سے کانپنے اور اس کے سامنے کھڑ ا ہونے سے لرزتے ہیں۔اور وہ قربانی کرتا چلا جاتا ہے، کرتا چلا جاتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہ ایک جماعت کو لا ڈالتا ہے اور زمین و آسمان کا خدا جسے لوگوں نے اپنے گھروں میں سے نکال دیا تھا اس کے لئے نئے نئے محلات بننے لگ جاتے ہیں۔کوئی یہاں، کوئی وہاں، کوئی ادھر ، کوئی اُدھر اور وہ خدا جو مسیح کی طرح اپنے نبی کو یہ آواز دیتا ہے کہ اے میرے بندے ! لومڑیوں کے بھٹ ہوتے ہیں اور ہوا کے پرندوں کے گھونسلے مگر میرے لئے تو سر چھپانے کی بھی جگہ نہیں۔اس کے لئے وہ سب سے پہلے اپنے دل کا دروازہ کھول دیتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب ! یہ گھر حاضر ہے۔پھر وہ اور گھروں کے تالے کھولتا ہے اور دیوانہ وار اور مجنونانہ وار کھولتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک گھر کی بجائے خدا کے کئی گھر ہو جاتے ہیں اور خدا کی حکومت زمین پر اسی طرح قائم ہو جاتی ہے جس طرح وہ آسمان پر قائم ہے۔پھر یہ سلسلہ بڑھتا جاتا ہے، بڑھتا جاتا ہے اور بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب خدا اپنے بندے سے کہتا ہے کہ میرے بندے تو نے بہت خدمت کر لی اور میں سمجھتا ہوں تو نے اپنی خدمت کا حق ادا کر دیا۔پس جس طرح تو نے اپنے دل کو میرے لئے