خطبات محمود (جلد 21) — Page 30
1940 30 خطبات محمود اور خدا کے ارد گرد پہرہ دینے لگ جاتا ہے۔وہ کیا ہی شاندار نظارہ ہوتا ہے جب قادر و قدیر خدا جب زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا خدا ایک نحیف و نزار جسم کے ساتھ چار پائی پر لیٹا ہوا ہوتا ہے اور ایک نحیف و نزار انسان جو اپنی کمر بھی سیدھی نہیں کر سکتا وہ تلوار لے کر اس کے ارد گرد پہرہ دے رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے میں اسے بچاؤں گا میں اسے بچاؤں گا۔اس سے زیادہ محبت کا شاندار نظارہ کبھی نظر نہیں آسکتا اور کبھی نظر نہیں آسکتا۔یہی رات ہمارے زمانہ میں بھی آئی اور خدائے قادر نے آواز دی کہ کوئی بندہ ہے جو مجھے بچائے۔تب زمین کے گوشوں میں سے ایک کمزور شخص آگے بڑھا اور اس نے کہا اے میرے رب! میں حاضر ہوں۔عظمند انسان چاہے اسے بے وقوفی قرار دیں اور فلاسفر چاہے اسے نادانی قرار دیں مگر جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے ہزاروں عقلیں اس بیوقوفی پر قربان کی جاسکتی ہیں اور ہزاروں فلسفے کے خیالات اس بظاہر نادانی کے خیال پر قربان کئے جاسکتے ہیں۔پھر اس کا وہ اعلان محض وقتی اعلان نہ تھا۔اس کا اظہار محبت ایک وقتی جوش نہ تھا۔وہ کھڑا ہو گیا اور کھڑا ہی رہا یہاں تک کہ اس نے اپنے مقصود کو حاصل کر لیا۔کیا تم نے کبھی گھروں میں نہیں دیکھا کہ وہاں بعض دفعہ کیا تماشہ ہوا کرتا ہے ؟ میں نے تو اس قسم کا تماشہ کئی دفعہ دیکھا اور میں سمجھتا ہوں ہر گھر میں کبھی نہ کبھی ایسا ہو جاتا ہو گا کہ کبھی کبھی مائیں ہنسی کے طور پر کپڑا منہ میں ڈال کر رونے لگ جاتی ہیں اور اوں اوں کرتے ہوئے اپنے کسی بڑے بھائی یا خاوند یا کسی دوسرے عزیز رشتہ دار کا نام لے کر بچے سے کہتی ہیں کہ وہ مجھے مارتے ہیں۔یہ دیکھ کر وہ ڈیڑھ سال کا بچہ گود کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اپنا ہاتھ اٹھالیتا ہے۔گویاوہ اس شخص کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جس کے متعلق اس کی ماں کہتی ہے کہ وہ مجھے مارتا ہے۔حالانکہ ماں کو بچانا تو الگ رہا بعض دفعہ وہ اپنا ہاتھ بھی اچھی طرح نہیں اٹھا سکتا مگر جانتے ہو یہ کیا ہوتا ہے؟ یہ محبت کا مظاہرہ ہوتا ہے کہ بچہ یہ نہیں دیکھتا میں کمزور اور ناتواں ہوں بلکہ ماں جب اسے آواز دیتی ہے تو وہ اپنی کمزور حالت کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی مدد کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔یہی حالت اس رات، اس گھڑی، اس سیکنڈ اور اس پل میں نبیوں کی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے اے میرے بندے ! مجھے دنیا نے دھتکار دیا اور مجھے اپنے گھر سے نکال دیا کوئی ہے جو مجھے بچائے