خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 308

$1940 307 خطبات محمود اپنی منافقت کے اظہار سے بتا دیا کہ وہ صحابی کہلانے کے مستحق نہیں اور دوسرے نے اپنے ایمان اور اخلاص کے اظہار سے بتا دیا کہ وہ صحابی کہلانے کا مستحق ہے۔ورنہ ظاہری طور پر منافق بھی نمازوں میں شامل ہو جاتے تھے اور منافق بھی صحابہ کے ساتھ جہاد کے لئے نکل کھڑے ہوتے تھے۔چنانچہ صریح طور پر حدیثوں میں آتا ہے کہ بعض غزوات میں منافق بھی شامل ہوئے۔غزوہ تبوک میں بھی بعض ایسے شقی القلب اور منافق لوگ تھے جو آگے بڑھ کر راستہ میں اس لئے چھپ کر بیٹھ گئے تھے کہ اگر رسول کریم صلی ال یکم اکیلے آتے ہوں تو آپ کو قتل کر دیں اور وہ غزوہ تبوک میں صحابہؓ کی صف میں شامل ہوئے مگر باوجود اس کے صحابہ کی تعریف میں کوئی کمی نہیں آئی۔ان کی شان میں کوئی فرق نہیں آتا اور ہر مسلمان کا دل صحابہ کی محبت اور ان کی تعریف سے لبریز ہوتا ہے کیونکہ منافقوں کی تعداد اتنی قلیل اور صحابہ کی تعداد اتنی کثیر تھی اور پھر صحابہ اپنے اخلاص اور اپنی محبت میں اس قدر بڑھے ہوئے تھے کہ منافق پیٹھ کے پیچھے چھپے ہوئے ایک داغ یا انگلی کے ایک متاسے بڑھ کر حیثیت نہیں رکھتے تھے۔اور ایسا داغ یا متا کسی حسین کے حسن میں کوئی فرق نہیں لایا کرتا۔پس میں امید کرتا ہوں کہ اس قسم کے لوگ تھوڑے ہوں گے کیونکہ خدا نے ہماری جماعت کو صحابہ کے نقش قدم پر بنایا ہے اور یقینا ہم میں منافقوں کی تعداد اتنی قلیل ہے کہ وہ جماعت کے لئے کسی صورت میں بدنامی کا موجب نہیں ہو سکتے۔بے شک میں جماعت کو اور زیادہ پاک کرنے، اسے روحانی ترقی کے میدان میں پہلے سے اور زیادہ قدم آگے بڑھانے اور اسے اپنے جسم سے معمولی سے معمولی دھتے اور داغ دور کرنے کی ہمیشہ تلقین کیا کرتاہوں اور جماعت کو اپنے خطبات کے ذریعہ ہمیشہ نصیحت کرتا رہتا ہوں مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ جماعت کے معتد بہ حصہ میں نقص پائے جاتے ہیں یا جماعت ان کمزوروں کی وجہ سے بد نام سمجھی جاسکتی ہے معترضین کی نگاہ میں تو جماعت ہر وقت بد نام ہی ہوتی ہے اور جو شخص اعتراض کرنے پر ایک دفعہ تل جائے وہ بہانے بنا بنا کر اعتراض کیا کرتا ہے مگر ان کی نگاہ میں جماعت کی جو بد نامی ہوتی ہے وہ شرفاء کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔پس جب میں کہتا ہوں کہ جماعت ان لوگوں کی وجہ سے بدنام نہیں ہو سکتی تو اس کے معنے صرف یہ ہوتے ہیں کہ شرفاء کے