خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 307

$1940 306 خطبات محمود کے لئے بدنامی کا موجب نہیں ہوا کرتے۔آج ہم صحابہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور بسا اوقات کہتے ہیں کہ وہ سب کے سب ایسے تھے۔حالانکہ ان صحابہ کہلانے والوں میں سے بھی بعض لوگ ایسے تھے جن کا نام قرآن کریم میں منافق رکھا گیا ہے۔پھر ہم کیوں کہتے ہیں کہ سارے صحابی ایسے تھے اور کیوں ان کا نام زبان پر آتے ہی ان کے لئے ہم دعائیں کرنے لگ جاتے ہیں؟ اسی لئے کہ منافق نہایت قلیل تھے اور قلیل التعداد ہونے کی وجہ سے وہ کسی شمار میں نہیں آسکتے تھے۔ایک حسین انسان کسی خفیف سے جسمانی نقص کی وجہ سے مثلاً اگر اس کی انگلی پر متانکلا ہوا ہو یا فرض کرو اس کی کمر پر کوئی داغ ہو بد صورت نہیں کہلا سکتا اور نہ مٹے یا داغ کی وجہ سے اس کے حسن میں کوئی فرق آسکتا ہے۔اگر ہم ایسے شخص کو حسین کہیں تو لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ تم نے اس بات کا استثنیٰ نہیں کیا کہ اس کی کمر پر داغ ہے یا اس بات کا استثنیٰ نہیں کیا کہ اس کی انگلی کی پشت پر متانکلا ہوا ہے۔بے شک مشا ایک نقص ہے ، بے شک داغ ایک نقص ہے لیکن ایسے مقام پر مستے یا داغ کا ہونا جہاں نظر نہ پڑ سکے یا خاص طور پر وہ حسن کو بگاڑ کر نہ رکھ دے حسن کے خلاف نہیں ہوتا۔ایک شخص جسے سال دو سال میں ایک دو دن کے لئے نزلہ ہو جاتا ہے یا چھینکیں آنے لگ جاتی ہیں اسے لوگ بیمار نہیں کہتے بلکہ تندرست ہی کہتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی جماعت میں منافقوں کی قلیل تعداد موجود ہو تو اس قلیل تعداد کی بناء پر وہ خراب نہیں کہلاتی۔غرض ہم صحابہ کو اس لئے اچھا کہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ بعض ظاہر میں صحابہ کہلانے والے ایسے تھے جو منافق تھے پھر بھی منافقوں کی تعداد نہایت قلیل تھی ور نہ ظاہری طور پر جس طرح انصار اور مہاجر رسول کریم صلی للی کمر پر ایمان لائے تھی اسی طرح منافق ایمان لائے تھے۔وہ اسی زمانہ میں ایمان لائے جس زمانہ میں صحابہ ایمان لائے۔انہوں نے بیعت کے وقت وہی کلمات کہے جو صحابہ نے کہے اور انہوں نے بھی اسی رنگ میں اظہار عقیدت کیا جس رنگ میں صحابہ نے کیا مگر صحابہ تو کچھ عرصہ کے بعد اپنے اخلاص میں اور بھی ترقی کر گئے لیکن منافق اپنے اخلاص میں کم ہوتے چلے گئے۔پس کوئی ایسا ظاہری فرق نہیں جس کی بناء پر ایک کو ہم صحابی کہیں اور دوسرے کو نہ کہیں۔سوائے اس کے کہ ایک نے