خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 248

* 1940 248 خطبات محمود بعض امور ایسے ہیں کہ ان کے متعلق میں نے دعا کی ہی نہیں بلکہ گیارہ میں سے اکثر ایسے ہیں جن کے متعلق میں نے کبھی دعا نہیں کی۔صرف ایک واقعہ ایسا ہے جس کے متعلق میں نے دعا کی تھی مگر جیسا کہ میں نے پچھلے خطبہ جمعہ میں ہی بیان کیا تھا اگر ایک چھوڑ میری سود عائیں بھی ایسی نکل آئیں جو قبول نہ ہوئی ہوں تو اس سے مجھ پر کوئی الزام عائد نہیں ہو تا کیونکہ ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ انسان کی ہر دعا قبول نہیں ہوتی اور نہ بتایا جائے کہ کیارسول کریم صلی ال نیم کے گیارہ بچے فوت نہیں ہوئے اور کیا آپ نے ان میں سے ہر ایک کے متعلق دعا نہیں کی تھی۔اسی طرح آپ کی بیوی فوت ہوئی، آپ کے کئی رشتہ دار فوت ہوئے، آپ کے کئی صحابہ فوت ہوئے اور آپ نے لازماً ان میں سے ہر ایک کے متعلق دعا کی ہو گی مگر خدا تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ مرنے والے مرتے جائیں گے اور جن کا نقصان مقدر ہے ان کا نقصان ہو تا چلا جائے گا۔یہ خیال قطعاً غلط ہے کہ مومن کا نقصان نہیں ہوتا یا مومن پر کبھی کوئی مصیبت نازل نہیں ہوتی بلکہ بحیثیت مجموعی مومن ترقی کرتا ہے اور بحیثیت مجموعی وہ مصائب اور مشکلات سے محفوظ رہتا ہے۔گویا مومن کے نقصان کی مثال ویسی ہی ہوتی ہے جیسے حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک عورت نے کئی سال مزدوری کر کے سونے کے کڑے بنوائے۔ایک دن کوئی چور آیا اور اس کے کڑے اتار کرلے گیا۔سال دو سال کے بعد ایک دن وہ عورت اپنے مکان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی کہ اس نے دیکھا وہی چور جس نے اس کے کڑے اتارے تھے پاس سے گزر رہا ہے۔اس نے اسے آواز دی اور کہا بھائی ذرا میری بات سن جانا۔اس نے جب دیکھا کہ وہی عورت اسے آواز دے رہی ہے جس کے کڑے وہ اتار کر لے گیا تھا تو اس نے جلدی جلدی وہاں سے بھاگنا چاہا تا کہ وہ اسے پکڑوا نہ دے مگر اس نے پھر آواز دی اور کہا بھائی گھبرانے کی ضرورت نہیں۔میں کسی کو کچھ کہوں گی نہیں تو میرے پاس آکر میری ایک بات سن جا۔چنانچہ وہ آیا تو وہ عورت اسے کہنے لگی دیکھ میرے ہاتھوں میں پھر سونے کے کڑے پڑے ہوئے ہیں مگر تیری وہی لنگوٹی ہی رہی۔تو مومن اور کافر میں یہی فرق ہے۔یہ نہیں کہ مومن کا نقصان نہیں ہوتا اور کافر کا ہوتا ہے بلکہ نقصان دونوں کا ہو تا ہے۔چنانچہ قرآن میں