خطبات محمود (جلد 21) — Page 247
$1940 247 خطبات محمود نکل گئی۔دوسرے کا بیٹامارا گیا اور پھر جلد ہی وہ خود بھی مر گیا۔تیسرے شخص کے بارہ میں مجھے یاد نہیں کہ اسے کیا سزا ملی مگر جہاں تک مجھے یاد ہے وہ بھی سخت سزا میں مبتلا ہوا تھا اور اردگرد کے واقف لوگوں میں اس واقعہ کو ایک نشان سمجھا جاتا ہے۔پچھلے دنوں جب میں سندھ گیا تو وہاں دوسندھیوں نے میری بیعت کی اور انہوں نے بتایا کہ ہمارے بیعت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی چوری کسی کو ہضم نہیں ہوتی۔چنانچہ وہ کہنے لگے یہاں سندھ میں یہ بات بڑی مشہور ہے کہ پنجابی پیر کی کوئی چوری نہیں کر سکتا۔اور اگر کرے تو وہ اسے ہضم نہیں ہوتی۔سندھیوں کے لئے اپنے پرانے پیروں کو چھوڑ نابڑا مشکل ہو تا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے وہاں بعض ایسے نشانات دکھائے جن کے ماتحت وہ اس بات پر مجبور ہو گئے کہ اپنے پیروں کو چھوڑ کر میری بیعت کریں۔چنانچہ بعض واقعات انہوں نے مجھے بھی سنائے جو واقع میں حیرت انگیز تھے۔مثلاً ایک نے بتایا کہ ایک شخص آپ کا کچھ غلہ کچرا کر لے گیا۔کھوج اس کے ڈیرہ تک پہنچا مگر اس نے تسلیم نہ کیا۔اس کے خسر نے اسے کہا کہ ان کی چوری بچا نہیں کرتی تم اپنے جرم کا اقرار کر لو مگر اس نے نہ مانا۔خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ ادھر جواب دینے کے لئے پنچایت کے پاس آیا اور ادھر اس کے ہمسایہ کے ساتھ اس کی بیوی بھاگ گئی۔اس قسم کے اور کئی واقعات ہوئے جس کی وجہ سے عام طور پر لوگوں پر ایک ہیبت ہے۔غرض یہ دنیوی چیزیں ہیں جن کے متعلق عام حالات میں میں دعا کرنا پسند نہیں کرتا۔دعا تو ایک بہت ہی اعلیٰ اور ارفع چیز ہے۔اس سے تو ہم دین کی مشکلات کے دور ہونے اور جماعت کو بحیثیت مجموعی ترقی کے لئے کام لیتے ہیں نہ یہ کہ گھوڑے چوری ہوں تو ہم دعا کرنے لگ جائیں مگر معلوم ہوتا ہے اس نے اپنے اوپر قیاس کر لیا چونکہ اس کی اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کی حالت ایسی ہی ہے۔نقصاں جو ایک پیسے کا دیکھیں تو مرتے ہیں۔" اس لئے اس نے اپنے اوپر قیاس کرتے ہوئے خیال کر لیا کہ ہماری بھی یہی حالت ہے۔گویا وہی اندھے اور سو جاکھے والی بات آگئی جو میں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔میں نے بتایا ہے کہ جو واقعات اس ٹریکٹ میں پیش کئے گئے ہیں ان میں۔