خطبات محمود (جلد 21) — Page 234
1940 234 خطبات محمود دعا نہیں بلکہ یہ ایک انابت ہے ، یہ ایک عبادت ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔بندے کا فرض ہے کہ جب بھی وہ کوئی مصیبت دیکھے خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور اس کے آگے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہوئے التجا کرے کہ وہ اس مصیبت کو دور کر دے مگر دعا کی کیفیت تو انسان پر ایسی حاوی ہوتی اور اس کے رگ وریشہ اور جسم اور روح کے ذرہ ذرہ پر ایسی طاری ہوتی ہے کہ کسی دوسری طرف انسان کو توجہ ہی نہیں ہوتی۔اگر ہر امر کے متعلق انسان دعا مانگنے لگے تو پھر تو شاید سال بھر میں صرف ایک دن کی ضرورتوں کے متعلق ہی دعا کی جاسکے۔امتِ محمدیہ کے تمام بزرگ کہتے چلے آئے ہیں کہ جو کچھ مانگنا ہو اپنے خدا سے مانگو۔حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق بھی بعض بزرگوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر تمہیں اپنی جوتی کے تسمہ کی بھی ضرورت ہو تو خدا سے طلب کرو۔اس نقطۂ نگاہ کے ماتحت غور کر کے دیکھ لو کہ دن رات میں کتنی ضرورتیں ہیں جو انسان کو پیش آتی ہیں اور کتنی دفعہ اسے خدا تعالیٰ سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس کی ضرورتیں پوری ہو جائیں۔ایک مکھی اگر انسان کے جسم پر بیٹھ جائے تب بھی اس اصول کے مطابق ہم خدا سے ہی کہیں گے کہ وہ اسے ہٹائے۔اگر چیونٹیاں کسی کھانے کی چیز کو چھٹی ہوئی ہوں گی تو ہم خدا سے ہی کہیں گے کہ وہ ان چیونٹیوں کو دور کرے۔اگر دھوپ کی شعاعیں ہمارے مکان کو نقصان پہنچار ہی ہوں گی تو ہم اس دھوپ کی ہر شعاع سے خدا کی ہی پناہ طلب کریں گے اور اگر بارش کثرت سے برسنے لگے اور وہ ہمارے لئے نقصان کا موجب بن جائے تو بارش کے ہر قطرے سے بھی ہم اللہ تعالیٰ کی ہی پناہ طلب کریں گے۔اسی طرح کھانے کے متعلق، پینے کے متعلق ، بیوی بچوں کے متعلق، پڑھائی کے متعلق، گھر کی صفائی کے متعلق، رشتہ داروں اور دوستوں کے متعلق، قرض داروں کے متعلق، غرض بیسیوں امور کے متعلق ہمیں روزانہ ضروریات پیش آتی رہتی ہیں اور سینکڑوں واقعات ایسے سامنے آجاتے ہیں کہ ہم اپنے ایمان کی بناء پر مجبور ہوتے ہیں کہ ان کے بارہ میں خدا تعالیٰ سے استعانت طلب کریں۔اب اگر ان امور میں سے ہر امر کے متعلق اسی قسم کی دعا کی جائے جو ضرور قبول ہو جاتی ہے تو صرف ایک دن کے کاموں کے لئے ہی بعض دفعہ