خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 202

1940 202 خطبات محمود ہو سکتے ہیں مگر اس کے اچھے معنی بھی ہیں اور جب تک تعبیر ظاہر نہ ہو تعبیر کا عام قاعدہ یہی ہے کہ اچھے معنی لئے جائیں اور اس لئے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ اس میں بتایا گیا ہے کہ اب مصیبت ٹل گئی ہے اور چونکہ برطانیہ نے دونوں حکومتوں کے الحاق کی پیشکش 15 جون کو کی تھی اس لئے ہو سکتا ہے کہ 15 دسمبر تک ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ برطانیہ کے لئے اتنا خطرہ نہ رہے۔اس کی بُری تعبیر بھی ہو سکتی ہے مگر وہ معنی بہت باریک ہیں اور پھر قاعدہ بھی یہ ہے کہ جب تک تعبیر ظاہر نہ ہو اچھے معنی ہی لئے جاتے ہیں اور اس لئے ہم یہی سمجھتے ہیں کہ یہ فقرہ اچھے رنگ میں کہا گیا ہے۔ہاں جیسا کہ میں نے کہا ہے اس کے بُرے معنی بھی ہو سکتے ہیں۔مثلاً یہ کہ یہ چھ ماہ پہلے کی بات ہے اس کے بعد خطرہ وقوعہ کی صورت میں بدل چکا اور جب ایک چیز ہو چکی پھر اس سے ڈرنے کا کیا فائدہ؟ بہر حال یہ ایک بہت بڑا نشان ہے جو ظاہر ہوا۔آخر میں میں پھر نصیحت کرتا ہوں کہ دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان حالات میں ایسے تغیر کر دے کہ وہ احمدیت کے لئے کمزوری کا موجب نہ ہوں اور اللہ تعالیٰ جماعت کو کسی ایسے ابتلاء میں نہ ڈالے جو اس کی طاقت سے بالا ہو۔پس دعائیں کرو کہ اے اللہ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو اور جو قربانیاں تیری منشاء کے مطابق ہوں ہمیں وہ خوشی سے پیش کرنے کی توفیق عطا فرما اور اپنے فضل سے اسلام اور احمدیت کی ترقی کے سامان پیدا کر۔“ (الفضل 28 جون 1940ء) 1 وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنِّي قَرِيب- البقرة : 187 2 صحیح بخاری كتاب الجمعة باب الساعة التي في يوم الجمعة در ثمین اردو صفحہ 68