خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 2 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 2

1940 2 خطبات محمود دوسرے کی جانوں، ایک دوسرے کے مالوں اور ایک دوسرے کی عزتوں کو دو۔یعنی کسی کی عزت پر حملہ نہ کرو۔اس پر اتہام نہ لگاؤ، اسے بد نام نہ کرو، اسے ذلیل نہ کرو، اسے بُرا بھلانہ کہو۔اسی طرح کسی کے مال پر حملہ نہ کرو یعنی امانتوں میں خیانت نہ کرو، کسی کا حق غصب نہ کرو، کسی کے مال اور جائداد میں ناجائز تصرف نہ کرو۔اسی طرح کسی کی جان پر حملہ نہ کرو۔یعنی کسی کو مارو نہیں، کسی کو پیٹو نہیں، کسی کو قتل نہ کرو اور کسی سے لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد نہ کرو۔یہ رسول کریم ملی ایم کی وصیت ہے اور آپ نے اس وصیت کے بیان کرنے کے بعد دود فعہ فرمایا کہ میں نے یہ وصیت تمہیں کی ہے جس شخص کے کان میں میری یہ بات پڑے اسے چاہئے کہ وہ آگے دوسرے لوگوں کے کان تک میری اس وصیت کو پہنچا دے اور انہیں چاہئے کہ وہ اور آگے بیان کریں۔گویا ہر شخص جو یہ حدیث سنے اسے رسول کریم صلی یم کا یہ حکم ہے کہ وہ آگے دوسرے مسلمان بھائیوں تک اسے پہنچا دے۔میں نے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے دوستوں کو نصیحت کی کہ وہ بھی رسول کریم صلی الی یوم کی اس وصیت کے ماتحت اس حدیث کو دوسروں تک پہنچاتے چلے جائیں۔یہاں تک کہ بہ حدیث چکر کھا کر پھر اُن تک پہنچے اور پھر دوبارہ وہ شاہد بن جائیں اور دوبارہ ان پر یہ فرض عائد ہو جائے کہ وہ اسے غائب تک پہنچا دیں کیونکہ رسول کریم صلی ایم کے الفاظ یہ ہیں کہ فَلْيُبَلِّغ الشَّاهِدُ الْغَائِب شاہد غائب تک اسے پہنچا دے۔یعنی جس کے کان میں یہ حدیث پہنچے وہ اسے اس شخص کے کان تک پہنچا دے جو اس مجلس میں موجود نہیں تھا۔رسول کریم صلی ا ہم نے یہ نہیں فرمایا کہ فَلْيُبَلِّغُ الْعَالِمُ الْجَاهِل کہ جس شخص کو اس حدیث کا علم ہو وہ اسے اس ا شخص تک پہنچا دے جسے اس حدیث کا علم نہ ہو۔اگر آپ یہ فرماتے تو اس کے معنے اور ہو جاتے اور رسول کریم صلی ال نیم کے اس ارشاد کا صرف یہ مطلب ہو تا کہ جن لوگوں کو اس حدیث کا علم ہوا نہیں تو یہ نہ پہنچائی جائے۔البتہ جو اس حدیث سے ناواقف ہوں ان تک اس حدیث کو پہنچایا جائے۔اس صورت میں جب کوئی شخص اس حدیث کو سن لیتا تو وہ سمجھ لیتا کہ اب کسی اور کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ پھر دوبارہ مجھے وہ یہ حدیث پہنچائے اور نہ مجھ پر یہ فرض ہے کہ میں ہر شخص کے آگے اسے بیان کروں بلکہ جو اس حدیث سے ناواقف ہو گا صرف اسے رسول کریم صلی یکم ها الله سة